آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال پر حکومت کے گمراہ کن بیانات ، چیف منسٹر پر سخت تنقید ، جے اے سی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ملازمین ( آر ٹی سی ) یونینوں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کنوینر و جنرل سکریٹری آر ٹی سی تلنگانہ مزدور یونین مسٹر اشوا دھاما ریڈی نے تلنگانہ حکومت اور ٹی ایس آر ٹی سی انتظامیہ کی سازشوں کو ناکام بنانے اور آر ٹی سی اور اس کے ملازمین کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے مقصد سے ہی غیر معینہ ہڑتال شروع کی گئی ہے اور کہا کہ ریاست میں دو دن سے جاری ہڑتال صرف تنخواہوں میں اضافہ کے لیے ہرگز نہیں ہے ۔ مسٹر اشوا دھاما ریڈی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت غلط و گمراہ کن بیانات جاری کرتے ہوئے ہڑتال کو ناکام بنانے کی ناکام کوشش کررہی ہے تاکہ عوام میں ٹی ایس آر ٹی سی کے ہڑتالی ملازمین کے تعلق سے منفی تاثر پیدا کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ خواہ حکومت اور ٹی ایس آر ٹی سی انتظامیہ کتنی ہی کوشش کرے ۔ ملازمین آر ٹی سی کی جاری ہڑتال کے ناکام ہونے کا ہرگز سوال ہی پیدا نہیں ہوگا ۔ انہوں نے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر بی اجئے کمار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وزیر نے ان کا (اشوادھاما ریڈی کا ) آر ٹی سی سے کوئی تعلق نہ رہنے کا اظہار کیا جو کہ بالکلیہ طور پر غلط و بے بنیاد ہے ۔ مسٹر ریڈی نے وزیر سے دریافت کیا کہ آیا رات دیر گئے پریس کانفرنس طلب کر کے انہیں و دیگر ملازمین آر ٹی سی کو ملازمتوں سے برطرف کرنے کا کس بنیاد پر اعلان کیا ۔ انہوں نے وزیر سے استفسار کیا کہ آیا وزیر ٹرانسپورٹ گذشتہ عرصہ میں علحدہ ریاست تلنگانہ جدوجہد میں کبھی حصہ لیا تھا ؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی مسٹر اجے کمار نے علحدہ ریاست تلنگانہ جدوجہد کرنے والے مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی سخت مخالفت کی تھی ۔ کنوینر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت ٹی ایس آر ٹی سی کو بند کر کے اس کی قیمتی اراضیات حاصل کرلینے کی کوشش کررہی ہے ۔ جب کہ ٹی آر ایس کے ایک رکن پارلیمان نے فرضی ٹنڈر ( بے نامی ) کے ذریعہ چار ایکڑ قیمتی اراضی حاصل کرچکے ہیں اور مسٹر کے سی آر بھی بس بھون سے متصل اراضی بھی لیز پر دینے کے لیے تیار ہیں ۔ مسٹر اشوا دھاماریڈی نے سخت الفاظ میں کہا کہ ان کی شروع کردہ جدوجہد مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا صفایا کرنے کی ایک ابتدائی کڑی ہے ۔ اور جب مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا موقف کمزور ہوجائے گا تو وہ دوبارہ برسر اقتدار آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا ۔ انہوں نے چیف منسٹر سے دریافت کیا کہ آیا اسمبلی انتخابات میں عوام نے 88 ارکان کو کامیاب بنانے کے باوجود مزید 12 ارکان اسمبلی کانگریس پارٹی کو کیوں خریدا گیا ۔ آر ٹی سی ہڑتال کے تعلق سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ علحدہ ریاست تلنگانہ جدوجہد کے لیے آر ٹی سی ملازمین کی جانب سے کی گئی ہڑتال قوانین کے مطابق تھی تو اب آر ٹی سی کا تحفظ کرنے کے لیے کی جانے والی آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کس طرح غیر قانونی ہوگی ۔ واضح کرنے کا مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا اور کہا کہ آر ٹی سی میں ایسی بھیانک صورتحال سابق میں کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ مسٹر اشوادھاما ریڈی نے آندھرا پردیش کے خطوط پر ریاست تلنگانہ میں آر ٹی سی کو فی الفور حکومت میں ضم کرنے کا حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ۔۔