واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کی صورت میں امریکہ ، اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کا پابند ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ موقف دونوں سربراہان کے درمیان جمعرات کے روز ہونے والے ٹیلیفون رابطے میں سامنے آیا۔بیان میں بتایا گیا کہ گفتگو میں امریکہ کی نائب صدر کملاہیریس بھی شریک تھیں۔ اس موقع پر صدر بائیڈن نے خطے میں بھڑکی کشیدگی کو ٹھنڈا کرنے کیلئے جاری کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔بائیڈن اور نتن یاہو کے درمیان بات چیت میں اسرائیل کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے اس کے دفاع کو سہارا دینے کی کوششیں بھی زیر بحث آئیں۔ ان خطرات میں بیلسٹک میزائل اور ڈروان طیاروں سے حملے شامل ہیں۔وائٹ ہاؤس کے بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو سپورٹ کی کوششوں میں امریکی دفاعی ہتھیاروں کے تعینات کی نئی کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔بائیڈن اور نتن یاہو کے درمیان ٹیلی فون پر یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب تہران میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کیا جا رہا ہے، ھنیہ منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب ہلاک کر دیے گئے تھے۔ اس دوران اسرائیل نے بیروت کے جنوبی نواحی علاقے میں ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے ایک اہم ترین عسکری کمانڈر فؤاد شکر کو ہلاک کرنے کی ذمے داری قبول کر لی۔دوسری جانب تہران میں ایرانی ذمہ داران اور ایران نواز تنظیموں کے نمائندگان کے درمیان ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں حماس اور حزب اللہ کے نمائندے بھی شریک تھے۔ اس موقع پر اسرائیل کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کے منظرناموں پر گفتگو ہوئی۔