بائیڈن انتظامیہ میں آر ایس ایس اور بی جے پی تعلقات والی شخصیتوں کو کوئی جگہ نہیں

   


متعدد تنظیموں کی امریکی صدر سے نمائندگی ، مستقبل میں غیر اہم ذمہ داری متوقع
حیدرآباد۔ امریکی صدر جارج رابرٹ بائیڈن نے اپنے انتظامیہ سے آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کو دور کرتے ہوئے یہ تاثر دینا شروع کردیا ہے کہ وہ شدت پسند ہندو تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کو اپنے انتظامیہ میں رکھنے کے حق میں نہیں ہیں اسی لئے انہو ںنے 20 ہندستانی نژاد امریکی شہریوں کو اپنے انتظامیہ میں شامل کئے جانے کے باوجود ان کی انتخابی تشہیر میں کلیدی کردار ادا کرنے والے دو ڈیموکریٹک اراکین سونل شاہ اور امیت جانی کو انتظامیہ سے میں شامل کرنے کے سلسلہ میں کوئی اعلان نہیں کیا ہے ۔ 20ہندستانی نژاد امریکی شہریوں کو بائیڈن انتظامیہ میں جگہ فراہم کئے جانے کے بعد یہ بات کہی جانے لگی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے تعلق رکھنے والے دونوں ڈیموکریٹس کو اب بائیڈن انتظامیہ میں کوئی جگہ نہیں دی جائے گی لیکن ڈیموکریٹک پارٹی ذرائع کا کہناہے کہ انہیں انتظامیہ میں شامل نہ کئے جانے کے متعلق وہ تصدیق کرنے کے موقف میں نہیں ہیں کیونکہ روزانہ کے اساس پر بائیڈن انتظامیہ میں ڈیموکریٹس کو ذمہ داریوں کی تفویض کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب جبکہ بیشتر اہم ذمہ داریاں تفویض کی جاچکی ہیں تو یہ کہا جا رہاہے کہ ان دونوں کو انتظامیہ میں کوئی جگہ نہیں دی جائے گی۔ اوباما انتظامیہ میں سونل شاہ اہم رکن رہ چکی ہیں اور امیت جانی بائیڈن کی تشہیری مہم میں کلیدی کردار ادا کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان دونوں کو شامل نہ کئے جانے سے یہ واضح ہورہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اس بات کے حق میں نہیں ہے کہ ہندوتوا تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کو انتظامیہ میں شامل کیا جائے۔ بتایاجاتا ہے کہ سال گذشتہ ڈسمبر کے دوران 19 تنظیموں نے مشترکہ طور پر جو بائیڈن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سونل شاہ اور امیت جانی کے آر ایس ایس اور بی جے پی سے تعلق کو پیش کرتے ہوئے انہیں نئے امریکہ کے انتظامیہ سے دور رکھنے کی خواہش کی تھی ۔ مختلف تنظیموں کی جانب سے جاری کئے گئے مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ سونل شاہ کے والد اوورسیز فرینڈس آف بی جے پی کے امریکی چیاپٹر کے صدر ہیں اور ان کی والدہ آر ایس ایس کی ایکل ودیالیہ چلاتی ہیں اور انہوں نے 2001میں گجرات میں زلزلہ کے متاثرین کے لئے وشوا ہندو پریشد کے بیانر پر چندہ بھی جمع کیا تھا۔امیت جانی کے ہندستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ دیگر سرکردہ بی جے پی قائدین سے راست تعلقا ت ہیں اور ان کو جب بائیڈن کی تشہیری کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا اس وقت ہی ان پر اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔اسی لئے شائد امریکی صدر کی جانب سے دونوں ڈیموکریٹس کو نئے انتظامیہ سے تاحال دور رکھا گیا ہے جبکہ پارٹی ذرائع کا کہناہے کہ ان کو مستقبل میں نئے انتظامیہ سے دور رکھنے کے بجائے غیر اہم ذمہ داریاں تفویض کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔