بائیڈن انتظامیہ کی امریکی عدالت سے تہور رانا کی ہندوستان حوالگی پر غور کرنے کی درخواست

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن ۔ امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ نے لاس اینجلس میں واقع ایک وفاقی عدالت سے خواہش کی ہے کہ وہ ہندوستان کی اس درخواست پر غور کرے جس کے تحت پاکستانی نژاد روپوش کینیڈین تاجر تہور رانا کی حوالگی کی خواہش کی گئی ہے جو ممبئی میں 2008 میں ہوئے دہشت گرد حملوں میں ملوث تھا۔ ہندوستان نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ تہور رانا کی حوالگی کے تمام ضوابط موجود ہیں اور اس کی حوالگی میں کوئی تکنیکی رکاوٹ پیدا نہیں ہوسکتی۔ یو ایس ڈسٹرکٹ عدالت جج جیکولین چولجیان نے تہور رانا کی حوالگی معاملہ کی آئندہ سماعت 22 اپریل کو مقرر کی ہے۔ یاد رہے کہ اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی جان لولیجین نے لاس اینجلس کی ایک وفاقی عدالت میں کہا تھا کہ 59 سالہ تہور رانا جو ممبئی دہشت گرد حملوں میں ملوث تھا، ممبئی میں مقدمہ چلانے کیلئے ہندوستان کو اس کی حوالگی کے تمام ضابطے موجود ہیں جبکہ 4 فروری کو رانا کے اٹارنی نے رانا کی ہندوستان کو حوالگی کی مخالفت کی تھی۔بائیڈن کے پیشرو ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی حالانکہ تہور رانا کی حوالگی کیلئے دلچسپی دکھائی تھی لیکن ان کا قدم غیر فیصلہ کن رہا۔