بائیڈن اور زیلنسکی کا یوکرین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال

   

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے فون پر یوکرین کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات چیت کی ہے ۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں امریکی صدر نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود یوکرین کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور معاشی مدد کے لیے اضافی جامع مالی امداد کی یقین دہانی بھی کرائی۔امریکی صدر نے بات چیت میں یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ یوکرین میں امریکی قونصلر اہلکاروں کے اہل خانہ کو واپس بلا لیا گیا ہے ۔ تاہم دارالحکومت کیف میں امریکی سفارت خانہ کھلا اور مکمل طور پر فعال رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ یوکرین اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حل کی بھی ‘‘نرمنڈی فارمیٹ’’ کے تحت حمایت کرتا ہے ۔ یہ فارمیٹ 2014 میں فرانس، جرمنی، روس اور یوکرین کے سفارت کاروں کی رضامندی سے تیار کیا گیا تھا۔