واشنگٹن : امریکی ایوان نمائندگان کے ایک سینئر رکن نے چہارشنبہ کو کہا ہیکہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے لیے مقررہ ڈیڈ لائن (یکم مئی) کے بعد بھی امریکی فوج کو افغانستان میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی جاسکے اور ’داعش‘ کی خلاف کارروائیوں میں امریکی فوج کی شمولیت کویقینی بنایا جائے۔ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد ‘داعش’ جیسے گروپوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین ایڈم اسمتھ نے ایک بیان میں کہا کہ بائیڈن کے افغانستان میں قیام امن کے بارے میں اپنے پیشرو ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے وڑن کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔جوبائیڈن ٹرمپ سے مختلف انداز میں سوچتے ہیں اور وہ افغانستان سے امریکی فوج کی عجلت میں واپسی کے حامی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی امریکی انتظامیہ نے افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے لیے طالبان کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن پر کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔
