چین کے حالیہ برسوں میں داخلی طور پر سخت ریاستی کنٹرول اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز پر امریکہ کی کڑی نظر
بیجنگ: چین نے حال ہی میں عہدہ سنبھالنے والے امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے ایک بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں اُن کے پیشرو ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتائج سے سبق حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر کی جانب سے چین کے معاشی ’’استحصال‘‘ کو محدود کرنے کے جو بائیڈن کے بیان پر معمول کی پریس بریفنگ سے خطاب میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چینی وزارت دفاع کے ترجمان لیجیان ڑاؤ نے کہا کہ امید کرتے ہیں امریکہ کی موجودہ انتظامیہ چین سے متعلق ٹرمپ حکومت کی غلط پالیسیوں سے سبق حاصل کرے گی۔ترجمان نے کہا کہ ہمیں امید ہے نئی حکومت دونوں ممالک کے تعلقات کو معروضی اور دانش مندانہ انداز میں دیکھے گی، اس کی چین سے متعلق پالیسیاں تعمیری اور مثبت ہوں گی اور پائیدار ترقی کے لیے دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو واپس درست راہ پر ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے چین داخلی طور پر زیادہ سخت ریاستی کنٹرول اور بیرون ملک سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کررہا ہے۔واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر بائیڈن کئی محاذوں پر چین کا معاشی استحصال روکنے کے لیے پْر عزم ہیں۔ اس کے لیے وہ امریکہ کے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر موثر ترین راستے اختیار کریں گے۔بیان میں کہا گیا کہ صدر بائیڈن کے نزدیک امریکہ کو بہتر دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس میں چین کو غیر قانونی، غیر شفاف سرگرمیوں کے لیے جوابدہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ یہ یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں کہ چین کی دفاعی قوت بڑھانے میں امریکی ٹیکنالوجی استعمال نہ ہو۔واضح رہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے دور میں دونوں عالمی قوتوں کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ رہے۔ ٹرمپ نے چین پر کئی تجارتی و سفارتی پابندیاں بھی عائد کی تاہم مبصرین کی جانب سے توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن چین سے متعلق ناقدانہ رائے کے باوجود جارحانہ رویہ اختیار نہیں کریں گے۔