بائیڈن نیوکلیئر معاہدہ کی طرف واپسی سے باز رہیں: اسرائیل

   

تل ابیب : اسرائیل کے ریٹائرڈ فوجی اور انٹلیجنس عہدیداروں نے امریکی صدر جو بائیڈن کو ایک مکتوب تحریر کیا ہے جس میں انھوں نے امریکی صدر کو ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کی طرف لوٹنے سے خبردار کیا ہے۔اسرائیلی مکتوب کے مطابق:’’نیوکلیئر معاہدہ کا احیاء دراصل اسرائیل کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔‘‘ مکتوب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ’’نیوکلیئر معاہدہ کی طرف دوبارہ رجوع سے خطے میں نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔واضح رہے کہ اسرائیل سے بھیجے گئے اس مکتوب پر کم سے کم ایک ہزار ریٹائرڈ فوجی اور خفیہ اداروں کے عہدیداروں کے دستخط موجود ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے گذشتہ برس فروری میں اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ ان کا ملک جارح اور انتہا پسند ایرانی حکومت کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دے گا۔نتن یاہو کے مطابق: ’’میں امریکی صدر جو بائیڈن کو بتاچکا ہوں کہ میں ایران کو نیوکلیئر معاہدہ یا اس سے ہٹ کر کسی بھی نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکوں گا۔‘‘یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے 2015 میں ایران اور پانچ بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا، تاہم اس میں بیان کردہ متن اس ضمن میں ناکافی ضمانت فراہم کرتا ہے، اسی لیے امریکہ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر کے معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کیا۔