بائیڈن نے حکومت سازی کی تیاری شروع کر دی، ترجیحات کا اعلان

   

l صدر ٹرمپ کی بعض پالیسیوں پر نظرثانی بھی شامل۔ویب سائٹ ’بائیڈن ہیرس صدارتی منتقلی‘ کا آغاز
l بعض مسلم ممالک پر عائد سفری پابندی کی برخواستگی اور امریکہ میں غیر قانونی افراد کیلئے قیام کی بحالی زیر غور

واشنگٹن:امریکہ کے صدارتی انتخابات 2020 کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس نے اقتدار کی منتقلی کے بعد کی ترجیحات واضح کر دی ہیں جن میں صدر ٹرمپ کی بعض پالیسیوں پر نظرثانی بھی شامل ہے۔ دوسری جانب انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت پیر سے ہو گی۔بائیڈن اور ہیرس نے ایک ویب سائٹ متعارف کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت ملنے کے بعد اْن کی پہلی ترجیح کورونا وائرس، معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور نسل پرستی سے نمٹنا ہو گا۔ویب سائٹ پر بائیڈن اور ہارس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی دن سے قیادت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ویب سائٹ کو ‘بائیڈن ہیرس صدارتی منتقلی’ کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق بائیڈن اور ہیرس کی انتظامیہ جن چیلنجز کا مقابلہ کرے گی ان میں قوم کی صحت کا تحفظ، کامیابی کے مواقع، نسلی مساوات کا فروغ اور موسمیاتی تبدیلی کے بحران سے لڑنا شامل ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہم ایک امریکہ کے لیے کھڑے ہوں گے اور ہم پہلے کی نسبت مزید مضبوط ہوں گے۔بائیڈن کے مشیروں کا کہنا ہے کہ صدارتی دفتر میں کام کے پہلے روز بائیڈن نے پیرس معاہدے اور عالمی ادارہ صحت کا دوبارہ حصہ بننے کا منصوبہ بنایا ہے۔یاد رہے کہ کرونا وائرس سے متعلق مبینہ گمراہ کن معلومات فراہم کرنے پر صدر ٹرمپ نے امریکہ کو عالمی ادارہ صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔بائیڈن کے منصوبوں میں بعض مسلم ملکوں پر عائد سفری پابندی اٹھانا اور بچپن میں غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے افراد کو امریکہ میں قیام کے پروگرام کی بحالی بھی شامل ہے۔انتخابی مہم کے دوران بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ ایران سے ہونے والے عالمی جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دست بردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔بائیڈن کے ایک مشیر نے ‘سی این این’ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بائیڈن ہیرس انتظامیہ وفاقی حکومت کی قیادت کرے گی اور اداروں پر اعتماد کی کامیابی سے بحالی کی بنیاد رکھیں گے۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ انتخابی نتائج تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کوئی ثبوت پیش کیے بغیر دعویٰ کیا ہے کہ متعدد ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کے دوران بے قاعدگیاں ہوئی ہیں جہاں بائیڈن اور ان کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا۔صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق مختلف عدالتوں سے رجوع کیا ہے جن پر پیر سے سماعت متوقع ہے۔امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے لیے کسی بھی امیدوار کو الیکٹورل کالج کے 538 ووٹوں میں سے کم از کم 270 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق بائیڈن یہ مطلوبہ عدد حاصل کر چکے ہیں۔اب تک امریکہ کی 50 میں سے 46 ریاستوں کے انتخابی نتائج آ چکے ہیں جس کے مطابق بائیڈن نے 279 اور ٹرمپ نے 214 ووٹ حاصل کیے ہیں۔امریکہ کی مزید چار ریاستوں سے نتائج آنا باقی ہیں جن میں نارتھ کیرولائنا، جارجیا، ایریزونا اور الاسکا شامل ہیں۔ الاسکا اور نارتھ کیرولائنا میں ٹرمپ اور دیگر دو ریاستوں میں بائیڈن کو برتری حاصل ہے۔اگر الاسکا اور نارتھ کیرولائنا میں ٹرمپ جیت بھی جاتے ہیں تو اْنہیں ملک کا دوبارہ صدر بننے کے لیے درکار 270 الیکٹورل ووٹ کا ہدف حاصل نہیں ہوگا۔