بائیڈن نے نتن یاہو کی کال ڈسکنیکٹ کردی

   

واشنگٹن : امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق گذشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے لیے جمع کیے جانے والے ٹیکس محصولات کا کچھ حصہ روکنے کے اسرائیلی فیصلے کے حوالے سے ’’مشکل‘‘ گفتگو کی۔ حکام کا کہنا ہیکہ جوبائیڈن نے یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ ’یہ گفتگو یہیں ختم کی جاتی ہے‘‘۔ایک امریکی اہلکار نے بائیڈن اور نتن یاہو کے درمیان ہونے والی کال کو ’’مایوس کن اور سب سے مشکل بات چیت‘‘ قرار دیا۔امریکی اہلکار نے کہا کہ یہ کال بائیڈن اور نتن یاہو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے۔AXIOS کے مطابق کال میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے لیے جو ٹیکس ریونیو اکٹھا کرتا ہے، وہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پہلے سے مالی مشکلات کا شکار فلسطینی اتھارٹی کو یہ ٹیکس ادا نہ کیے گئے تو اس کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے اکتوبر میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد تمام ٹیکس ریونیو فنڈز کی منتقلی کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن اسرائیلی حکومت نے کہا تھا کہ وہ حماس کے زیرانتظام غزہ میں جانے والے فنڈز کے علاوہ دیگر تمام فنڈز فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کریں گے۔Axios ویب سائٹ کے مطابق یہ معاملہ نتن یاہو کے لیے کانٹا بن گیا ہے، جنہیں بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے فنڈز جاری کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ دوسری طرف نتن یاہو کو اپنے اتحادیوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ سموٹریچ جنہوں نے کسی بھی فنڈز کے اجراء کی مخالفت کا اظہار کیا حکومت سے علاحدگی کی بھی دھمکی دی تھی۔