ٹرمپ پر تنقید، امریکہ کو ایک غیرمعمولی دور کا سامنا، جمہوریت اور آزادیٔ اظہارخیال پر زور
واشنگٹن: صدر امریکہ بائیڈن نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اگلے صدارتی الیکشن میں اپنے مد مقابل ڈونالڈ ٹرمپ کو روس اور جمہوریت کے ایشوز پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر کووڈ 19 کے حوالے سے لاپرواہی برتنے اور کیپٹل ہل پر حملے کو انتخابی مقدمے کے طور پر پیش کیا۔ بائیڈن نے ایوان زیریں اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب سے قبل اپنے حریف پر جملے کسے اور سخت تنقید کی۔ انہوں نے تنقید کی کہ ٹرمپ دفاعی امور پر زیادہ خرچ نہ کر کے ناٹو کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ روس امریکی اتحادیوں پر اپنے حملے کو آسان بنالے۔صدر بائیڈن نے اپنے صدارتی پیش رو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو کھلی چھوٹ دیدی ہے کہ امریکی اتحادیوں کے ساتھ جو مرضی آئے کرتا رہے۔ ٹرمپ کا یہ رویہ اشتعال انگیز، خطرناک اور ناقابل قبول ہے۔جو بائیڈن جو کہ یوکرین کو روس کے خلاف جنگ کیلئے اضافی مالی امداد فراہم کرنے کیلئے کانگریس پر زور دے رہے ہیں نے پوٹن کو بھی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔جوبائیڈن نے اپنے ساتھ اپنے انتخابی حریف کا موازنہ پیش کرتے ہوئے جمہوریت، اسقاط حمل کے حقوق اور معیشت جسیے مضوعات کا ذکر کیا۔ ڈیموکریٹس صدر بائیڈن کے اس موازنہ کو صدارتی انتخاب میں عوام کے سامنے ایک اچھے مقدمے کے طور پر دیکھتے ہیں۔6 جنوری کو کیپٹل ہل پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے نے ملکی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی کوشش کی کہ ٹرمپ کے حامی 2020 میں جوبائیڈن کی فتح کو شکست میں بدلنا چاہتے تھے۔انہوں نے خطاب میں ملک کی داخلی سیاست سمیت یوکرین اور غزہ جنگ اور دیگر عالمی مسائل پر بھی بات کی۔ا سٹیٹ آف دی یونین کے سالانہ خطاب میں ایوانِ نمائندگان، سینیٹ، سپریم کورٹ اور ڈپلومیٹک کور کے ارکان اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف بھی موجود تھے۔صدر بائیڈن نے جمعرات کی شب خطاب میں اپنی حکومت کی پالیسی اور ترجیحات بیان کرتے ہوئے اپنے ممکنہ مخالف صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ پر بالواسطہ تنقید کی۔صدر بائیڈن نے خطاب کے دوران جمہوریت اور آزادی اظہار پر زور دیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ ہمیں امریکہ کی تاریخ کے ایک غیر معمولی دور کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کانگریس کو جگانا ہے اور امریکی عوام کو خبردار کرنا ہے کہ یہ کوئی معمولی لمحہ نہیں ہے۔ان کے بقول سابق صدر لنکن اور خانہ جنگی کے بعد سے آزادی اور جمہوریت پر ملک میں اس طرح حملہ نہیں ہوا جیسا کہ آج صورتحال درپیش ہے۔صدر بائیڈن نے کہا کہ روسی صدر پوٹن یوکرین پر حملہ آور ہیں اور وہ پورے یورپ اور اس سے باہر افراتفری کا بیج بو رہے ہیں۔ اگر اس کمرے میں موجود کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پوٹن یوکرین تک محدود رہیں گے تو یہ محض خام خیالی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ یوکرین پوٹن کو روک سکتا ہے، اگر ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے ہوں اور اسے اپنے دفاع کیلئے ضروری ہتھیار فراہم کریں اور یہی سب کچھ یوکرین مانگ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا کوئی بھی فوجی یوکرین کی جنگ میں شامل نہیں ہے اور ان کا یہ عزم ہے کہ یہ ایسا ہی رہے۔صدر بائیڈن نے کہا کہ ان کے پیش رو ڈونالڈ ٹرمپ نے پوٹن کو کہا تھا کہ “تم جو کرنا چاہتے ہو وہ کرو” درحقیقت ایک سابق امریکی صدر نے روسی ہم منصب کے سامنے جھکتے ہوئے یہ کہا تھا۔ یہ اشتعال انگیز، خطرناک اور ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ پوٹن کیلئے ان کا واضح پیغام ہے کہ “ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی جھکیں گے۔”صدر نے کانگریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے نیشنل سیکیورٹی بل بھیجیں، تاریخ دیکھ رہی ہے۔ اگر امریکہ آج پیچھے ہٹا تو پھر یوکرین خطرے میں پڑے جائے گا۔صدر بائیڈن کا اشارہ یوکرین، اسرائیل اور تائیوان کی امداد کیلئے 95 ارب ڈالر کے اس نیشنل سیکیورٹی بل کی جانب تھا جو سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے۔ تاہم ری پبلکن اکثریتی ایوانِ نمائندگان سے تاحال منظوری کا منتظر ہے۔