واشنگٹن: امریکی صدر بائیڈن نے جمعہ کے روز کہا کہ امریکہ غزہ میں فوری جنگ بندی تک پہنچنے کیلئے انتھک محنت کر رہا ہے اور اسرائیل اور حماس کے درمیان “فوری طور پر چھ ہفتے کی جنگ بندی” کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ غزہ میں معصوم جانوں کا تحفظ اور بچاؤ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔بائیڈن نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے سامنے، اپنے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران کہا: “غزہ کیلئے امداد ایک سودے بازی کی چیز نہیں ہو سکتی،” اسرائیلی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “غزہ کیلئے انسانی امداد کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم غزہ میں امداد کی سب سے بڑی رقم لانے کیلئے کام کر رہے ہیں، اور ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کی اجازت دے۔”امریکی صدر نے کہا: “ہم امداد پہنچانے کیلئے فوج کو غزہ میں ایک بندرگاہ قائم کرنے کی ہدایات دیں گے،” انہوں نے حماس سے سات اکتوبر کے حملے میں ملوث افراد کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ”ہم نے بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے حوثیوں کے خلاف حملے کیے ہیں۔”دریں اثنا، امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعہ کے روز اپنے اسرائیلی ہم منصب یوآو گیلنٹ سے فون پر غزہ میں شہریوں کیلئے انسانی امداد کے ایئر ڈراپس پر بات کی۔پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لائیڈ آسٹن نے گیلنٹ کو تمام ممکنہ داخلی مقامات کے ذریعے غزہ کیلئے امداد بڑھانے اور پٹی تک پہنچنے کے بعد اس کی محفوظ تقسیم کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں وزراء نے حماس کے زیر حراست تمام افراد کی فوری رہائی تک پہنچنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔
اسرائیل امدادی سامان کو ’ سودے بازی‘کیلئے استعمال نہ کرے: بائیڈن
واشنگٹن: امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیل کو خبر دار کیا ہے کہ امدادی سامان کی ترسیل کو جنگ بندی کے لئے مذاکرات میں ایک ‘سودے بازی’ کے طور استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔ امریکی صدرنے یہ بات اپنی اسٹیٹ آف یونین تقریر کے دوران اسرائیل اور غزہ کے درمیان عارضی جنگی وقفے کے فوری اہتمام کا مطالبہ کرتے ہوئیکہی ہے۔ان کا اسرائیلی قیادت کو متوجہ کرتے ہوئے کہنا تھا ‘ انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی مذاکرات میں ثانوی حیثیت کی حامل نہیں ہو سکتی یے۔ اسے انسانی جانیں بچانے اور انسانی تحفظ کے لئے ترجیح اول کے طور پر دیکھنا چاہیے۔اسٹیٹ آف یونین خطاب کے دوران اس سے پہلے جو بائیڈن نے بحر متوسط میں ایک امریکی بحری اڈے کی تعمیر بھی منصوبہ پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا غزہ میں قحط کا خطرہ ہے۔تاہم صدر جو بائیڈن نے غزہ پر اسرائیلی جنگ کا ایک بار پھر جواز ثابت کرتے ہوئے اسرائیلی حق دفاع کو تسلیم کی وکالت کی۔ واضح رہے اسرائیل نے سات اکتوبر 2023 سے حماس کے ایک حملے کو جواز بنا کر غزہ پر جنگ مسلط کی۔یہ جنگ اب چھٹے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی صدر جوبائیڈن نیغزہ پر اسرائیلی حملے کو دل شکن قرار دیتے ہوئے کہاوہ نان سٹاپ بنیادوں پر غزہ کوشاں ہیں جلد سے جلد چھ ہفتوں کے لئے جنگ بندی ہو جائے۔ یہ جنگ بندی انسانی بنیادوں پر ہونی چاہیے تاکہ انسانی بحران اور المیے سے بچا جا سکے۔
جو بائیڈن نے اس موقع پر دو ریاستی حل کے حق میں امریکی موقف کو دہرایا تاکہ خطے میں پائیدار امن ممکن ہو سکے اور ترقی و خوشحالی کا دور شروع ہو۔