بائیڈن کیساتھ بحث میں بازی لے جانے ٹرمپ کا دعویٰ

,

   

Ferty9 Clinic

l امریکہ میں پناہ گزینوں کے داخلہ میں بڑی کٹوتی، ٹرمپ کا منصوبہ
l پناہ گزینوں کو محفوظ مقام فراہم کرنے کا امریکہ پابند عہد : پومپیو

سان ڈیاگو: صدر امریکہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے ڈیموکریٹک حریف جوبائیڈن کے ساتھ پہلا صدارتی مباحثہ میں انہوں نے بائیڈن پر بازی لے لی ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس بحث کے دوران انہوں نے بائیڈن کے نہایت ہی خطرناک ایجنڈہ کو آشکار کردیا ہے۔ امریکہ کے سابق نائب صدر بائیڈن اپنی عوامی زندگی میں 47 سال سے جھوٹ بولنے کیلئے ذمہ دار ہیں۔ قبل ازیں ٹرمپ نظم و نسق میں آنے والے سال میں امریکہ میں پناہ گزینوں کی تعداد کو ریکارڈ اقل ترین سطح تک گھٹانے کی تجویز رکھی ہے۔ چہارشنبہ کو دیر گئے کانگریس کو ارسال کردہ نوٹس میں جبکہ قانونی طور پر مہلت میں محض 34 منٹ باقی رہ گئے تھے، نظم و نسق نے کہا کہ وہ مالی سال 2021ء میں زیادہ سے زیادہ 15 ہزار رفیوجیز کو داخلہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کا مطلب 18 ہزار کے مقابل 3 ہزار کم ہوجائیں گے جو نظم و نسق نے سال 2020ء کیلئے مقرر کئے تھے، جس کی کارکرد مدت کا چہارشنبہ کی درمیانی شب اختتام ہوگیا۔ اس تجویز پر اب کانگریس غوروخوض کرے گی جہاں اس کٹوتی پر سخت اعتراضات ظاہر کئے جانے کی توقع ہے لیکن قانون ساز بڑی حد تک بے اختیار ہیں کہ وہ تبدیلیوں پر نظم و نسق کو مجبور کرسکے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈلتھ، منیسوٹا میں انتخابی ریالی سے خطاب کے دوران پناہ گزینوں کو ان چاہا بوجھ قرار دیا اور اپنے حریف سابق نائب صدر جوبائیڈن پر لفظی حملہ کیا۔ صدر کی تقریر کے کچھ ہی دیر بعد زائداز 16.5 فیصد کٹوتی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن مملکت کو پناہ گزینوں سے بھر دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ بائیڈن اگر جیت گئے تو منیسوٹا کو رفیوجی کیمپ میں تبدیل کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں غیرمعمولی سرکاری وسائل دستیاب ہیں، اسکولوں میں اسٹوڈنٹس کی بہتات ہے اور بڑی تعداد میں ہاسپٹل بھی ہیں۔ یہ سب پہلے سے ہے جن پر امریکی شہریوں کا اختیار ہے۔

بائیڈن پناہ گزینوں کو مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے کوروناوائرس وبا کے درمیان مارچ میں رفیوجی افراد کے داخلہ پر روک لگاتے ہوئے کہا تھا کہ کوویڈ۔19 کے سبب معیشت پر کاری ضرب لگی ہے اور ایسی صورتحال میں امریکی نوکریوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔ اس دوران امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ نظم ونسق پناہ گزینوں کیلئے محفوظ مقام فراہم کرنے میں دنیا کی قیادت کی تاریخ رکھتا ہے اور اسے برقرار رکھنے کا پابند عہد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ بدستور انسانی بحران پر راحت کاری کیلئے سب سے بڑا عطیہ کنندہ ملک ہے اور دنیا بھر میں اس کے فلاحی اقدامات جاری ہیں۔ پومپیو روم، اٹلی میں یو ایس ایمبیسی کے زیراہتمام ایک کانفرنس بعنوان ’’مذہبی آزادی‘‘ کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ جب تک صدر ٹرمپ عہدہ پر فائز ہیں، وہ وعدہ کرسکتے ہیں کہ نظم و نسق پناہ گزینوں کے کاز کیلئے بدستور پابند عہد رہے گا۔ ٹرمپ نے صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ملک میں پناہ گزینوں کی تعداد 80 فیصد سے زیادہ گھٹادی ہے۔