بائیڈن کی 20 جنوری کو امریکی صدر کی حیثیت سے حلف برداری

   

امریکہ کے کئی ڈسٹرکٹس بشمول واشنگٹن میں 24 جنوری تک ایمرجنسی کا نفاذ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دارالحکومت میں 20 جنوری کو نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری کیلئے ایک ہنگامی اعلامیہ جاری کیا ہے جو دراصل مذکورہ تقریب کو لاحق خطرہ کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے جس کے تحت وائیٹ ہاؤس نے یہ واضخ کردیا ہے کہ ڈپارٹمنٹ ْآف ہوم لینڈ سیکوریٹی
(DHS)
اور فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی
(FEMA)
کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقامی عوام کو لاحق مشکلات کو کم سے کم تر کرنے راحت کاری اقدامات کو یقینی بنائیں۔ یاد رہیکہ واشنگٹن میں ہنگامی حالات کا نافذ پیر سے 24 جنوری تک رہے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ یہ ہنگامی حالات دراصل گذشتہ ہفتہ رونما ہوئے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا نتیجہ ہے جہاں ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے کیپٹل بلڈنگ پر ہلہ بول دیا تھا جہاں پولیس کے ساتھ بھی جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اس پرتشدد احتجاج نے کانگریس کے اس آئینی عملہ کو روک دیا تھا جس کے تحت جوبائیڈن کو صدرمنتخب کئے جانے اور کملاہیریس کو نائب صدر منتخب کئے جانے کا باقاعدہ اعلان شامل تھا۔ احتجاج کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ اس میں پانچ افراد بشمول کیپٹل ہل پولیس آفیسر ہلاک ہوگئے تھے۔ وائیٹ ہاؤس کے مطابق ہنگامی اعلامیہ کے بعد اس کے نفاذ کیلئے ہنگامی اقدامات بھی فراہم کئے جاتے ہیں جو اسٹافورڈ ایکٹ کے ٹائٹل V کے تحت ہوتے ہیں جس کا مقصد عوام کے جنان و مال کی حفاظت کرنا ہے اور کولمبیا میں کسی بھی ناگہانی واقعہ کی روک تھام کرنا ہے۔ وائیٹ ہاؤس کے مطابق ایمرجنسی کیلئے جو تحفظاتی اقدامات کئے جارہے ہیں وہ راست طور پر وفاقی امداد تک محدود ہیں جس کی صد فیصد وفاقی فنڈنگ ہوگی۔ متاثرہ علاقوں کی نگرانی کیلئے ڈی ایچ ایس کے تھامس فرگیون اور فیما کے ایڈمنسٹریٹر پیٹرگینور کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ایف بی آئی نے نومنتخبہ صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں پرتشدد مظاہرے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے جہاں جوبائیڈن نئے امریکی صدر کی حیثیت سے حلف لیں گے لیکن ایسا لگتا ہیکہ موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ جوبائیڈن کی حلف برداری تک مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ٹرمپ کے حامیوں کا جو رویہ تھا اس کی دنیا کے ہر گوشہ سے مذمت کی جارہی ہے کیونکہ امریکہ کی تاریخ میں اس نوعیت کا واقعہ کبھی رونما نہیں ہوا جہاں حملہ آوروں کو خود صدر کا تعاون حاصل تھا۔ اس طرح رخصت ہونے سے پہلے یہ واقعہ ٹرمپ کے چار سالہ دورصدارت پر ایک بدنما داغ ہے۔