بائیں بازو کی 10 پارٹیوں کا آج ملک گیر احتجاج

   

ورکرس اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ میں مرکز اور ریاست ناکام
حیدرآباد۔ بائیں بازو کی 10 جماعتوں نے مرکز اور ریاست کی عوام دشمن پالیسیوں، لیبرس، ورکرس اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ میں ناکامی کے خلاف کل 3 جولائی کو ملک گیر سطح پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ تلنگانہ میں بھی بائیں بازو کی جماعتیں احتجاج منظم کریں گی۔ سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری ٹی ویرا بھدرم، سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی کے علاوہ سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیموکریسی، ایم سی پی آئی یو، سی پی آئی ایم ایل، ایس یو سی یو، آر ایس پی، سی پی آئی ایم ایل لبریشن، فارورڈ بلاک کے قائدین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بائیں بازو کے احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کریں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے نام پر غیر منظم شعبہ کے ورکرس، کنٹراکٹ ورکرس اور مائیگرنٹ ورکرس کے تحفظ میں مرکز اور ریاستی حکومتیں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ملازمین اور ورکرس نہ صرف روزگار سے محروم ہوئے بلکہ انہیں تین ماہ تک تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ لیبر قوانین پر عمل آوری کیلئے حکومتیں انتظامیہ پر دباؤ بنانے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ بائیں بازو قائدین نے عوامی شعبہ کے علاوہ خانگی شعبہ کے اداروں میں مزدوروں اور ورکرس کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ مرکز نے 20 لاکھ کروڑ کے پیاکیج کا اعلان کیا لیکن اس سے ملازمین اور ورکرس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے ذریعہ عام آدمی پر بوجھ عائد کیا گیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرس کے وظیفہ میں کٹوتی کی راہ ہموار کرنے کیلئے خصوصی آرڈیننس جاری کیا۔ کیرالا اور دہلی کی حکومتوں نے کنسٹرکشن ورکرس کیلئے ویلفیر بورڈ کے ذریعہ مالی امداد فراہم کی لیکن تلنگانہ حکومت نے ورکرس کی کوئی مدد نہیں کی۔ انہوں نے ہر غریب خاندان کو 7500 روپئے امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔