رنکوسنگھ، یشسوی جیسوال اور تلک ورما اہم نام
نئی دہلی۔ ہندوستان میں وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے باصلاحیت کھلاڑی نے ہمیشہ دیگر کرکٹ ممالک کے درمیان رشک کا احساس پیدا کیا ہے لیکن آسٹریلیا میں 2022 کے مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ میں، بائیں ہاتھ کے بیٹرس کی کمی کے ساتھ ساتھ مڈل آرڈر میں بھی ایک بہت بڑی بات تھی۔ رویندرا جڈیجہ کی غیر موجودگی میں اکشر پٹیل کا استعمال چھٹے یا ساتویں نمبر پر ہوتا تھا، یہاں تک کہ ہندوستان نے مڈل آرڈر میں دنیش کارتک کی جگہ رشبھ پنت کو لایا لیکن اس میں بہت دیر ہوچکی تھی کیونکہ پنت نے زمبابوے کے ساتھ ساتھ انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں بائیں ہاتھ کے دھماکہ خیز بیٹرکے طور پر مطلوبہ اثر نہیں چھوڑا۔ آئی پی ایل 2023 میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بائیں ہاتھ کے بیٹرس کی ایک چھوٹی جماعت مڈل اور لوئر آرڈر میں اپنی اپنی ٹیموں کے لیے اہم بنیاد بن کر ابھری ہے۔ چینائی سوپرکنگز کے سابق بائیں ہاتھ کے بیٹر سریش رائنا کے لیے، رنکو سنگھ اور تلک ورما مڈل آرڈر میں قومی ٹیم کے لیے بائیں ہاتھ مستقبل ہیں۔ رنکو سنگھ اور تلک ورما نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ یہ دونوں مڈل آرڈر میں کھیلتے ہیں۔ بعض اوقات یہ دیکھنا بہت اہم ہو جاتا ہے کہ صورتحال اورکھیل کیسا چل رہا ہے اور کھیل کی مانگ کو سمجھنا، جو میں رنکو سنگھ اور تلک ورماکے بارے میں بہت پسند کرتا ہوں۔ رنکو نے ایک میچ میں پانچ متواتر چھکے لگائے۔ رنکو جس نے پیرکوکولکتہ نائٹ رائیڈرز کی پلے آف کی امیدوں کو زندہ رکھنے کے لیے پنجاب کنگز کے خلاف آخری گیند پر چوکا لگایا۔ دوسری طرف تلک، ممبئی انڈینز کے لیے دلچسپ فام میں ہیں۔ وہ مڈل آرڈر اور ڈیتھ اوورز میں پانچ بارکے چمپئنز ممبئی کے لیے کلید ثابت ہورہے ہیں، جس میں بڑے اسٹوکس اور مستقل مزاجی کا امتزاج ہے۔ ٹی20 کے علاوہ، رائنا کو ورما میں ونڈے میں مڈل آرڈر کے کردار میں کامیاب ہونے کی صلاحیت بھی نظر آتی ہے۔ تلک ورما، وہ کتنا باصلاحیت کھلاڑی ہے مڈل آرڈر میں آکر دکھا رہا ہے کہ وہ کیسا کلاس کھلاڑی ہے، وہ بہت جلد ہندوستان کے لیے کھیل سکتا ہے۔ ان دونوں کے علاوہ اوپنر یشسوی جیسوال بھی زیادہ دور نہیں ہیں۔ دو ڈبل سنچریوں سمیت چھ سنچریاں بنانے کے بعد، 2022/23 کے گھریلو سیزن میں، یاشاسوی راجستھان رائلز کے لیے سب سے کامیاب ہیں، انہوں نے 160.6 کے اسٹرائیک ریٹ پر 43.36 کی اوسط کے ساتھ 11 اننگز میں 477 رنز بنائے۔ ممبئی انڈینز کے خلاف شاندار 124 رنز کی اننگز کھیلی ہے۔ ورلڈ کپ آنے کے ساتھ، وہ اوپنر بن سکتا ہے جسے ہندوستان شکھر دھون کے بعد تلاش کررہا ہے۔ رنکو، ورما اور جیسوال جیسے بائیں ہاتھ بیٹرسکے درمیان، جیتیش شرما مقابلے کے آخری پانچ اووروں میں دائیں ہاتھ سے بیٹنگکے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرے ہیں، جو ان کے 193.10 کے اسٹرائیک ریٹ سے دیکھا جاتا ہے۔ جیتیش کے ساتھ ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ فاسٹ بولروں اور اسپنرز کے خلاف مسلسل جارحانہ ہیں، جس کی ایک مثال ممبئی کے خلاف ان کی ناقابل شکست 49 رنز کی اننگز تھی۔ نوجوان بائیں ہاتھ کے بیٹرس کے ساتھ ساتھ فنشرز کا ابھرنا، جو کھیل کے مختلف مراحل میں مسلسل تیز رفتار رنز بنانے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی ٹیم کے لیے اچھی بات ہے، جس کے پاس اچانک انتخاب کرنے کے لیے بہت سے اختیارات ہیں لیکن ہاتھ میں موجود وسائل کی کثرت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا قومی ٹیم کے تھنک ٹینک کے لیے کلید ہوگا اگر وہ 2022 کے مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ میں نظر آنے والی الجھنوں سے بچنے کے خواہاں ہیں۔دوسری جانب ہندوستان اب رواں سال ونڈے ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے جارہا ہے اور وہ ان نوجوان کھلاڑیوں کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل کا منصوبہ بناسکتا ہے ۔