بابائے قوم موہن داس کرم چند گاندھی کے قتل کے پس پردہ محرکات پر فلم

   

اسکریننگ میں ممتاز شخصیتوں کی شرکت، گورڈن پنسنٹ کا خطاب

حیدرآباد۔یکم ستمبر(سیاست نیوز) ایک ایسے دستاویزی فلم جس میںبابائے قوم موہن داس کرم چند گاندھی( باپو) کو قتل کرنے کے پس پردہ محرکات کی فلم بندی کی گئی ہے اور اس فلم کا ٹائٹل ’’Who Killed Gandhi?‘‘ رکھا گیا ہے کی اسکریننگ ‘ بنجارہ ہلز پر واقعہ سماجی تحریکات کے مرکز ’’لامکان ‘‘ میںعمل میںآئی۔ اسکرینگ میںشہر حیدرآباد کی ممتاز شخصیتوں نے حصہ لیا اور اس اہم دستاویزی فلم کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس فلم کی بھرپور ستائش کی اور اس کو وقت کی اہم ضرورت کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر ریاستوں میںبھی اس کی اسکرینگ پر زوردیا۔اس دستاویزی فلم میں کینڈا کی ممتاز شخصیت گورڈن پنسنٹ نے تفصیلات کو بیان کیاہے ۔ فلم کے پس منظر میں آواز اسی شخصیت کی ہے ۔ اس فلم میںبہترین انداز میںمہاتما گاندھی کے قتل کے منصوبے کا خلاصہ کیاگیا ہے ۔ اور خاص طور سے اس بات پر توجہہ دی گئی ہے کہ ایک کاسمو پولٹین سوسائٹی میں کیسے اعلی ذات والوں کے لئے ان سے کم درجہ رکھنے والی ذات کی شہرت قابل قبول نہیںہوتی۔ حالانکہ ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس کے بانی دامودر ساورکر کے دوقومی نظریہ کے عین برعکس گوڈسے کے اکھنڈ بھارت کی سونچ کے درمیان پیدا شدہ تشویش اور حیرت کو بھی اس فلم کے ذریعہ دور کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔بہترین انداز میں ساورکر اورگوڈسے کے گھر والو ںکے درمیان میں پائے جانے والے تال میل کو بھی اس دستاویزی فلم میںپیش کیاگیا ہے۔اس میں جن تصویروں او رویڈیوز کا استعمال کیاگیا ہے وہ بھی کامیاب ہیں۔جبکہ آنند رمایا کی ہدایت کاری میںبنی یہ دستاویزی فلم متضاد نظریات کے حامل ہونے کے باوجود ساورکر اور گوڈسے کے درمیان میںاشتراک کو خوب انداز میںپیش کیاگیا ہے۔مجموعی طور پر یہ دستاویزی فلم ملک کے نوجوان طبقے کے لئے کافی کار آمد ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس فلم کے ذریعہ بنیاد پرستوں کے نظریات کو اجاگر کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔حال ہی میںاس فلم کی اسکریننگ مہارشٹرا کے شہر پونے میںہوئی تھی اور پروگرام کے آرگنائزر فرحت اللہ بیگ نے کہاکہ ابتداء میںانہیں ڈر تھا کہ شر پسند عناصر پونا میںاس فلم کی اسکریننگ کو روک دیں گے او رہنگامہ کھڑا کریں گے مگر ایسا کچھ نہیںہوا اور ہم نے کامیابی کے ساتھ فلم کی نمائش کی اور اب حیدرآباد کے بعد ملک کے دوسرے شہروں میںبھی فلم کی نمائش کا منصوبہ بنایاجارہا ہے۔ انہوںنے یہ بھی کہاکہ اب تک کسی نے بھی مہاتما گاندھی کے قتل پر اس طرح کی ڈاکیو منٹری تیار کرنے کی کوشش بھی نہیں کی ہے۔