مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری‘ کلکٹریٹ آفس میں یادداشت کی حوالگی
جنگائوں۔6؍ دسمبر(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ملک کی تاریخی بابری مسجدکی شہادت کے 33سال ہوگئے ۔ آج 6 دسمبرکو بابری مسجدکی یاد میں بعدنماز ظہرجامع مسجد جنگائوں پرمحمدجمال شریف ایڈوکیٹ وصدرمسلم ڈیولپمنٹ کمیٹی جنگائوں ضلع کی قیادت میں خصوصی دعاء کا اہتمام کیاگیا ۔ مولاناشاکرحسین قاسمی خطیب وامام جامع مسجدجنگائوںنے دعا کی ۔اس موقع پرمحمدجمال شریف ایڈوکیٹ نے کہاکہ مسجداللہ کا گھرہے ۔یہ اللہ کیلئے وقف ہے ۔تا قیامت یہ مسجدہی رہے گی۔ 6دسمبرکو صرف بابری مسجدکی شہادت نہیں ہوئی بلکہ ملک وآئین پامال ہواہے اورساتھ ہی ساتھ جمہوریت کا خون بھی ہواہے ۔ اس ملک کی جمہوریت پرایقان رکھنے والوں اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے بھی اس کو آئین اورجمہوریت کے ساتھ اتحاد ویکجہتی کا بڑا نقصان قرار دیاہے ۔انہوںنے کہا کہ بابری مسجد کی اس شہادت کے بعد گیان واپی اور متھرا عیدگاہ اور سنبھل کی جامع مسجدکو بھی اب فرقہ پرست لوگ متنازعہ قرار دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کی حفاظت کرنا حکومت کا کام ہے ۔ ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں نے اپنی جان اورمال کو قربان کیا ہے ۔ بابری مسجدکی شہادت پر خاص دعا کے بعد تمام مسلمانوں نے جنگائوں کلکٹر آفس پر انچارج اے او روی کرن کو ایک یادداشت پیش کی ۔اس موقع پرصدر جامع مسجدجنگائوں مسیح الرحمن‘ محمد نور الدین‘صادق علی ایڈوکیٹ ‘ مولانا شاکر‘عبدالمنان رضی ‘ سلیم ‘چاند‘ بشیر‘ غوث ‘ اکبر‘مدار‘نصیر‘ظہیرالدین ‘ یعقوب جانی اوردوسرے موجودتھے ۔
