انتہاپسند عناصر کیخلاف قومی سلامتی قانون استعمال کرنے یوپی پولیس سربراہ کا انتباہ
لکھنو ۔ 4 نومبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کی وظیفہ حسن خدمات پر سبکدوشی سے قبل ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ متوقع ہے ۔ ملک کے دو بڑے سیاسی طورپر بااثر طبقات ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس حساس مقدمہ پر فیصلہ کے پیش نظر اکثر ریاستوں میں وسیع سکیورٹی انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ اُترپردیش کے پولیس سربراہ اوم پرکاش سنگھ نے کہا ہے کہ رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد ملکیتی مقدمہ پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ متوقع ہے ۔ امن و قانون کو درہم برہم کرنے کی کوششوں میں ملوث عناصر کے خلاف ریاستی پولیس کی طرف سے قومی سلامتی قانون ( این ایس اے ) نافذ کیا جائے گا۔ فرقہ وارانہ طورپر حساس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے پولیس کی طرف سے کئے جانے والے انتظامات کے بارے میں او پی سنگھ نے مزید کہا کہ ’’ہم بالکل تیار ہیں کسی بھی صورت میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ہماری انٹلیجنس مشنری چوکس و متحرک کردی گئی ہے ۔ امن و قانون درہم برہم کرنے کی کوششوں میں ملوث عناصر کے خلاف این ایس اے استعمال کیا جائے گا ‘‘۔
برقراری امن کیلئے پاپولر فرنٹ کی اپیل
اس دوران پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے صدرنشین ای ابوبکرنے پیر کو نئی دہلی میں جاری کردہ بیان میں تمام شہریوں سے سپریم کورٹ فیصلے کے بعد امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے ۔ انھوں نے فاضل عدلیہ پر اعتماد کا اعادہ کیا اور اُمید ظاہر کی کہ فیصلہ حقائق اور ریکارڈس کی بنیاد پر کیا جائے گا ۔