نیوزچینلس کو نیوز براڈکاسٹنگ اتھاریٹی کے مشورے
نئی دہلی۔17 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام) نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹانڈرڈ اتھاریٹی این بی ایس اے نے ہندوستان ٹی وی کے تمام چینل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مسجد کیس کی رپورٹنگ کے دوران احتیاط سے کام لیں اور ’’اشتعال انگیز مباحثوں‘‘ سے گریز کریں ، جس سے گمان ہے کہ کشیدگی پیدا ہوگی ۔ این بی ایس اے ، ٹی وی خبروں کا ایک خود احتسابی ادارہ ہے ۔ اس ادارہ نے ٹی وی چینلوں کو یہ بھی صلاح دی ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کی کوئی بھی تصاویر وغیرہ ایودھیا کے کسی بھی معاملے میں دکھائی نہ جائیں ۔ اس تنظیم کی جانب سے چہارشنبہ کو دو صفحات پر مشتمل مشاورتی بیان میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کی کارروائیوں کے تعلق سے اٹکل پچو پر کوئی نشریات عمل میں لائی نہ جائیں اور نہ ہی عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے اعلان سے قبل اٹکلیںکی جائیں اور نہ ہی عدالت کے فیصلہ کے بعد قرین قیاس واقعات جو سنسنی خیز ہوسکتے ہیں ان کے بارے میں نہ کہا جائے ۔ اس نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ عدالت کی کارروائیوں کے متعلق کوئی خبر نشر نہ کی جائے جب تک کہ کوئی رپورٹر یا ایڈیٹر پوری طرح اس کے اصل اور صحیح ہونے سے واقف نہ ہوں ۔ اس رپورٹ میں نیوز چینل سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایودھیا کیس کے سلسلہ میں ہونے والے احتجاج یا خوشیاں منانے کی تصاویر اپنے چینل پر نہ دکھائیں ۔ اس میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی چینل کے پروگرام سے یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ یہ جانبدارانہ ، منصفانہ یا کسی کی تائید یا مخالفت میں ہے ۔