بابری مسجد انہدام کیس کے خصوصی جج کی میعاد میں مزید توسیع کا امکان

   

سپریم کورٹ کا الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے عدم اتفاق
نئی دہلی۔13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کی حکومت نے جمعہ کے دن سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے عدالت کی ہدایت پر عمل کیا ہے اور 1992ء کے بابری مسجد انہدام کے کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی جج کی میعاد میں توسیع کردی ہے۔ اس کیس میں بی جے پی کے بزرگ قائد ایل کے اڈوانی، ایم ایم جوشی اور اوما بھارتی ملوث پائے گئے ہیں۔ اترپردیش کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل ایشوریا بھٹی نے بنچ کو بتایا کہ ان کی حکومت نے ملک کی عدالت عظمی کی ہدایت پر عمل کیا ہے اور خصوصی جج کی میعاد ملازمت کو بابری مسجد کے انہدام کے کیس کے فیصلے تک توسیع دی ہے۔ بنچ نے اپنے جواب میں کہا کہ ’’ہم مطمئن ہیں کہ حکومت نے ضرورت کے مطابق اقدام کیا ہے۔‘‘ 19 جولائی کو سپریم کورٹ نے اسپیشل جج کی میعاد کو اس کیس کی ضمنی کارروائی اور فیصلے تک بڑھادیا۔ عدالت عظمی نے بتایا کہ خصوصی جج کی میعاد 30 ستمبر کو ختم ہورہی ہے اور وہ وظیفے پر سبکدوش ہورہی ہے۔ تاہم ان کی میعاد میں توسیع صرف بابری مسجد انہدام کیس کی کارروائی چلانے اور فیصلہ سنانے کے لیے کی گئی ہے۔ عدالت نے مذکورہ جج سے کہا کہ وہ اپنا فیصلہ 9 ماہ کے اندر سنادیں۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ کو دستور کے تحت جب تک وہ گورنر رہیں گے کسی بھی کارروائی سے استثناء کا مستحق قرار دیا۔ اس کیس میں بی جے پی کے رکن پارلیمان ونئے کٹیا، سادھوی رتمبرا، گری راج کشور، اشوک سنگھل ملوث قرار دیے گئے ہیں۔