بابری مسجد میں مورتیاں رکھنے کے بعد ہی مقام پر تنازعہ : سپریم کورٹ

   

نئی دہلی 11 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے بابری مسجد پر معلنہ اپنے تاریخی فیصلے میں کہاکہ بابری مسجد میں 1949 ء کے دوران مورتیاں رکھے جانے کے بعد ہی اس مقام پر تنازعہ پیدا ہوا اور مجسٹریٹ کی عدالت کی بنیاد پر اس کو قرق کیا گیا تھا اور پانچ کے منجملہ پہلا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے کہاکہ 12 نومبر 1949 ء کو فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کے بعد اس متنازعہ مقام پر پولیس پکٹ تعینات کی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہاکہ سنسکرت، ہندی، اُردو، فارسی، ترکی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں مذہب، تاریخ، ثقافت، ادب اور آثار قدیمہ جیسے موضوعات پر مبنی کتابوں میں شامل مواد کے فیصلہ میں حوالہ دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہاکہ اس مقام پر جہاں کبھی بابری مسجد کھڑی تھی ہندوؤں کی ایقان و عقیدہ کے مطابق وہ لارڈ رام کا پیدائشی مقام ہے جس کا حوالہ والمیکی کی کتاب ’والمیکی رامائن‘ کے علاوہ مختلف صحائف اور مذہبی کتب میں شامل ہے۔ چنانچہ اس دعوے کو بنیاد سے عاری تصور نہیں کیا جاسکتا۔