بابری مسجد مقدمہ کو عالمی عدالت میں لیجانے مسلم پرسنل لا بورڈ سے اجازت دینے کویتی وکیل کی خواہش
کویت سٹی: کویت کے مشہور سماجی کارکن اور انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی حقوق مرکز کے ڈائریکٹر مجبل الشریکہ نے بابری مسجد کی اصل جگہ پر دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔ بین الاقوامی ثالثی نے اپنے حالیہ ٹوئیٹ میں کویت انسٹیٹیوٹ آف لاء اینڈ لیگل اسٹڈیز میں ٹریننگ اتھاریٹی کے رکن مجبل الشریکہ نے بھی لکھا ہیکہ 15 ویں صدی کی تاریخی بابری مسجد بھی مسجد اقصیٰ کی طرح ہر مسلمان کی ہے۔ ہندوستان کے مسلمان تنہا نہیں ہیں، مسجد اقصیٰ کی طرح ہر مسلمانوں کا تعلق بابری مسجد سے ہے۔ امت اس وقت تک خاموش نہیں رہے گی جب تک انصاف نہ ہوجائے اور بابری مسجد کی تعمیرنو اس جگہ پر کی جائے جہاں اسے غیر قانونی طور پر منہدم کیا گیا تھا۔ میں انصاف کیلئے کھڑا ہوں۔واضح رہیکہ مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت رام مندر کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھنے کی تیاری کررہی ہے اور ممکن ہیکہ 5 اگست کو ’’بھومی پوجن‘‘ کی تقریب ہوگی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل) کے صدر کو لکھے گئے اپنے مکتوب میں شریکہ نے بابری مسجد کے انہدام کو ’’عالمی سطح پر مذہبی اور انسانی حقوق کی پامالی کا مسئلہ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اے آئی ایم پی ایل سے درخواست کی ہیکہ وہ اس معاملے کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پاس لے جانے کی اجازت دے۔انہوں نے لکھا کہ’’ ہندوستان کی مسلم کمیونٹی کے بارے میں فکرمند ہونے کا ایک حصہ یہ عالمی سطح پر مذہبی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا بھی مسئلہ ہے۔ لہٰذا میں آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ اپنے بورڈ کے مجاز ممبروں کی ہنگامی میٹنگ کریں اور ہمیں ذمہ داری دیں۔ بابری مسجد کیس بین الاقوامی فوجداری عدالت میں لے جانے کیلئے ہمیں اجازت دیں‘‘۔ ہندوستان میں اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز جرائم کی دہلی کی افسوسناک خبروں کیساتھ اور کوویڈ 19 میں وبائی امراض کے چلتے مسلمانوں کی خدمات اور ہندوستان کو حکمرانوں کے ذریعہ تقسیم کرنے سے یہ سنگین حرکات یقینا ایک بہت ہی پریشان کن علامات ہیں۔
