اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر چیف سکریٹری یو پی سے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی بات چیت ، ملک بھر میں الرٹ
نئی دہلی ۔ /8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی متنازعہ اراضی ملکیت کیس کا کل چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کی جانب سے صبح 10.30 بجے فیصلہ سنایا جائے گا ۔ سپریم کورٹ نے اپنے ویب سائیٹ پر نوٹس اپ لوڈ کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کا اعلان چیف جسٹس کی عدالت میں کیا جائے گا جو کورٹ روم نمبر 1 ہے ۔ فیصلہ کے وقت 5 ججس پر مشتمل دستوری بنچ کی قیادت چیف جسٹس رنجن گوگوئی کریں گے ۔ یہ بنچ جسٹس ایس اے بوبلے ، ڈی وائی چندرچوڑ ، اشوک بھوشن اور ایس عبدالنذیر پر مشتمل ہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی اراضی ملکیت تنازعہ کیس کا فیصلہ سنانے سے قبل اترپردیش کے چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل پولیس سے آج دوپہر ملاقات کرکے ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ چیف جسٹس نے چیف منسٹر یو پی آدتیہ ناتھ یوگی سے بھی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ 5 ججس پر مشتمل چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیرقیادت دستوری بنچ نے روزانہ کی اساس پر ایودھیا کی متنازعہ اراضی کیس کی /6 اگست سے سماعت شروع کی تھی ۔ اس اراضی کے دعویدار ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثالثی میں ناکامی کے بعد عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی ۔ 40 دن تک سماعت کے دوران کئی موقعوں پر ڈرامائی واقعات بھی رونما ہوئے اور یہ سماعت /16 اکٹوبر کو ختم ہوئی ۔ دستوری بنچ نے آخری دن فریقین کو ہدایت دی تھی کہ وہ تحریری طور پر اپنے دلائل پیش کریں تاکہ عدالت کو 3 دن کے اندر فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے ۔ اس کیس کے 3 اہم فریقین نے تحریری بیان کے ذریعہ ہدایت دینے کی خواہش کی تھی ۔ نرموہی اکھاڑا نے رام مندر کی تعمیر کی اجازت دینے کی خواہش کی اور اس احاطہ کے انتظامی حقوق بھی اسے دینے پر زور دیا گیا ۔ رام للا نے پوری متنازعہ اراضی اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مسلم فریقوں یا نرموہی اکھاڑہ کو اراضی کا کوئی بھی حصہ نہیں دیا جانا چاہئیے ۔ شیعہ وقف بورڈ نے مطالبہ کیا تھا کہ بابری مسجد کو مکمل حالات میں بحال کیا جائے جیسا کہ وہ /6 ڈسمبر 1992 ء کو منہدم کرنے سے قبل تھی ۔ اس کیس کا فیصلہ جس کے سنگین اثرات سماجی اور سیاسی امور پر مرتب ہوسکتے ہیں ۔ فیصلہ کی نوعیت کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ کیا ہونے والا ہے ۔ قبل ازیں چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سبکدوشی سے ایک دن قبل /17 نومبر کو کیس کا فیصلہ آنے کی توقع تھی ۔ الہ آباد ہائیکورٹ کے 2010 ء کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ کے سامنے 14 اپیلیں داخل کی گئی تھیں ۔ جس میں کہا گیا تھا کہ متنازعہ اراضی کو سنی وقف بورڈ ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کی جانی چاہئیے ۔ اس کیس کے پیش نظر ملک بھر میں الرٹ جاری کیا گیا ہے ۔ اعلیٰ حکام نے جج گوگوئی کو بتایا کہ وہ پوری طرح تیار ہیں اور امن وقانون قائم رکھنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں ۔ دہلی کے بشمول ملک بھر کی تقریباً مساجد میںامن و امان کی برقراری کی اپیل کی گئی ہے ۔
