ریٹائرڈ سی بی آئی جج سریندر کمار یادو نے بابری مسجد انہدام کیس کے ملزمین کو بری کیا تھا
لکھنؤ : ریٹائرڈ سی بی آئی جج سریندر کمار یادو جنہوں نے بابری مسجد انہدام کا فیصلہ سنایا تھا، انہیں اترپردیش کا اُپ لوک آیوکت (نائب لوک آیوکت) مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں آج پیر کو عہدہ کا حلف دلایا گیا۔ ڈپٹی لوک آیوکت اور اُپ۔ لوک آیوکت ایکٹ 1975ء کے مطابق ان کی مدت کار 6 سال ہوگی۔ گورنر یوپی آنندی بین پٹیل نے انہیں ڈپٹی لوک آیوکت (III) مقرر کرنے والے اعلامیہ پر 6 اپریل کو دستخط کئے تھے۔ بابری مسجد انہدام کیس آخری مقدمہ رہا جس سے انہوں نے خصوصی سی بی آئی عدالت، لکھنؤ کے پریسائیڈنگ جج کی حیثیت سے نمٹا تھا۔ ان کی میعاد کو خصوصیت سے سپریم کورٹ نے آگے بڑھایا تھا تاکہ بابری مسجد انہدام کی سازش سے متعلق کیس میں وہ ٹرائل مکمل کرسکے۔ گذشتہ سال 30 ستمبر کو سنائے گئے فیصلہ میں انہوں نے کیس کے تمام 32 ملزمین کو بری کردیا جن میں نامی گرامی سیاسی قائدین جیسے بی جے پی کے ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اومابھارتی، کلیان سنگھ وغیرہ شامل ہیں۔ ایس کے یادو نے 2000 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ مسجد کا انہدام پہلے سے طئے شدہ منصوبہ کے تحت نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے پس پردہ کوئی سازش کارفرما رہی۔ عدالت نے کہا تھا کہ انہدام کا پہلے سے منصوبہ نہیں بنایا گیا اور یہ کہ ملزمین نے درحقیقت ہجوم کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی نہ کہ انہیں بھڑکایا۔ وہ لوگ جو گنبد پر چڑھ گئے تھے وہ غیرسماجی عناصر تھے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سی بی آئی کے پیش کردہ آڈیو اور ویڈیو کلپس کی صداقت ثابت نہیں ہوسکی۔ لوک آیوکت ایسا نگرانکار ادارہ ہے جو عوامی خدمت گذاروں کی جانب سے کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات کی تحقیقات کرسکتا ہے۔ ڈپٹی لوک آیوکت کی حیثیت سے ایس کے یادو ایسے کسی بھی عمل کی تحقیقات کرسکتے ہیں جو کوئی عوامی خدمت گذار کی طرف سے ہو۔ اس سلسلہ میں انہیں شکایت موصول ہونا چاہئے۔ نیز جس معاملہ کی تحقیقات درکار ہے وہ کسی وزیر یا سکریٹری کے د ائرہ کار میں نہ آتا ہو۔ بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمہ کا فیصلہ ہونے کے بعد بھی اسی طرح کا معاملہ دیکھنے میں آیا تھا جب چیف جسٹس آف انڈیاکی حیثیت سے سبکدوش رنجن گوگوئی کو رکن راجیہ سبھا بنایا گیا ۔
