بابری مسجد کی شہادت کو ٹالا جاسکتا تھا

   

نرسمہا راو نے وزارت داخلہ کی رپورٹ قبول نہیں کی : گوڈبولے
نئی دہلی 3 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بابری مسجد کی شہادت کو ٹالا جاسکتا تھا اگر ایسا کرنے کی سیاسی خواہش ہوتی اور کوئی کارروائی کی جاتی ۔ اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راو نے اس سلسلہ میں وزارت داخلہ کی جانب سے تیار کردہ ایک جامع رپورٹ اور ایکشن پلان کو منظور نہیںکیا ۔ اس وقت کے معتمد داخلہ مادھو گوڈبولے نے یہ دعوی کیا ہے ۔ انہوں نے ایودھیا تنازعہ پر اپنی تازہ کتاب میں کہا کہ اگر وزیر اعظم کی سطح پر سیاسی پہل ہوتی تو اس رامائن کے مہابھارت کو ٹالا جاسکتا تھا ۔ انہوں نے اس وقت کے حالات کی تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ نرسمہا راو نے اس اہم ٹسٹ میچ میں اہم رول ادا کیا تھا تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ میدان سے باہر کے کپتان رہے ۔ انہوں نے کوئی رول ادا نہیں کیا ہے ۔ اپنی کتاب میں انہوں نے دعوی کیا کہ نرسمہا راو کے علاوہ راجیو گاندھی اور وی پی سنگھ کی حکومتوں
نے بھی اس وقت بروقت کوئی کارروائی نہیں کی جب مسجد خطرہ میں تھی ۔
انہوں نے کہا کہ جب راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے کوئی قابل قبول حل پیش کیا گیا تھا تاکہ تنازعہ کو حل کیا جاسکے تاہم فریقین کے موقف میں سختی پیدا ہونے سے قبل تنازعہ کی یکسوئی کیلئے کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔