بابری مسجد گرانے کیلئے سازش نہیں کی گئی

,

   

کیا حکومت اور عدالت کی نظر وں میں ہم ’’گدھے‘‘ ہیں ؟

کولکتہ : انگریزی اخبار روزنامہ’’ دی ٹیلیگراف‘‘ نے بابری مسجد شہادت کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلہ کے تناظر میں اپنے صفحہ اول پر عوام کو گدھا سمجھ کر فیصلہ سنائے جانے سے متعلق طنزیہ تصویر شائع کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا مودی حکومت اور اس کے اشاروں پر کام کرنے والی عدالتیں عوام کو گدھا سمجھ رہی ہیں ۔ عدالت کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد گرانے کیلئے کوئی سازش نہیں کی گئی ۔ یہ تو برسرموقع غیرسماجی عناصر کی کارروائی تھی ۔ اس لئے عدالت نے تمام ملزمین کو بری کردیا ۔ حکومت اور قانون کے رکھ والوں نے واقعی عوام کو گدھا اوراحمق متصور کیا ہے ۔ اس لئے اپنی مرضی کے فیصلے کئے جارہے ہیں ۔ اترپردیش کی آدتیہ ناتھ حکومت بھی ہر روز عوام کو گدھا سمجھ کر حکمرانی کررہی ہے ۔ خواتین کی عصمت ریزی کے بڑھتے واقعات خاص کر یو پی کے ضلع ہتھراس میں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ کے بعد دارالحکومت دہلی اور اترپردیش میں احتجاجی مظاہرے ہونے لگے تو یو پی حکومت پریشان ہوگئی ۔ پولیس نے اس متوفی دلت لڑکی کی نعش کا اغواء کرلیا اور لڑکی کے ارکان خاندان کے بغیر ہی مقامی شمشان گھاٹ میں نعش کو جلادیا ۔ طاقت کا استعمال اور گھناؤنے واقعات کو پوشیدہ کرنے کیلئے یہ حکومت کسی بھی حد تک جارہی ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کیس میں حکومت اور قانون کے رکھوالوں نے عوام کو احمق سمجھ کر جو کارروائیاں اور فیصلے کئے ہیں وہ غور طلب ہیں ۔

سی بی آئی کی خصوصی عدالت بابری مسجد شہادت کے 28 سال بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ مسجد گرانے کیلئے سازش نہیں کی گئی ۔ /6 ڈسمبر 1992 ء کو ایودھیا میں موجود بی جے پی اور وی ایچ پی کے بااثر قائدین نے مسجد کو گرانے کی کوئی سازش نہیں کی تھی ۔ عدالت نے مسجد کی شہادت کا الزام غیرسماجی عناصر پر تھوپ دیا جو کارسیوکوں کے ہجوم میں گھس گئے تھے ۔ عدالت کا یہ فیصلہ ہندوستان کی تاریخ میں تاریک ترین واقعات میں سے ایک ہے ۔ عدالت کا فیصلہ بی جے پی کی ایک اور کامیابی ہے ۔ کیونکہ گزشتہ نومبر میں ہی سپریم کورٹ نے ایودھیا میں بابری مسجد رام جنم بھومی کی متنازعہ اراضی کو ہندوؤں کے حوالے کیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ واضح طور پر کہا تھا کہ مسجد کی مسماری قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی تھی ۔ بابری مسجد کی شہادت کی تاریخ /6 ڈسمبر 1992 ء اور /30 ستمبر 2020 ء کو عدالت کا فیصلہ یہ سب کچھ عوام کی نظروں کے سامنے ہوا ہے ۔ عوام بلاشبہ یہ جانتے ہیں کہ بابری مسجد کو کس نے شہید کیا تھا اور کیوں شہید کیا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد ہندوستانی عوام کو کیا قیمت چکانی پڑی تھی ۔ ہزاروں کی جانیں چلی گئیں اور ہزاروں کا خون بہا ۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود موجودہ حکومت اور اس کے اشاروں پر کام کرنے والے قانون کے رکھ والوں نے ملزمین کو بری کردیا ۔ ہم یعنی عوام ایسے ہی لوگوں کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے انہیں ہر انتخابات کے بعد دوسرے انتخابات میں ووٹ دے کر اقتدار کی شکل میں انعام و اکرام سے نوازتے ہیں اور ہم ووٹ دینے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں ۔