نئی دہلی ۔ /28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مغل شہنشاہ بابر نے کبھی ایودھیا کا دورہ کیا اور نہ متنازعہ رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد اراضی پر 1528 ء میں مندر کو منہدم کرتے ہوئے مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا ، ایک ہندو تنظیم نے چہارشنبہ کو سپریم کورٹ کے روبرو یہ دعویٰ کیا ہے ۔ اس کیس میں مسلم فریق کے دائر کردہ مقدمہ کی مدعی اکھل بھارتیہ سری رام جنم بھومی پونارودھر سمیتی نے تاریخی کتب جیسے تزک بابری یا بابر نامہ ، ہمایوں نامہ ، اکبر نامہ اور تزک جہانگیری کا حوالہ دیا ۔ وہ 5 ججوں کے دستوری بنچ کے روبرو اپنا بیان پیش کررہی تھی ۔ اس بنچ کی سربراہی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کررہے ہیں ۔ سمیتی نے اپنے حوالوں کے ذریعہ اس نکتہ کو اجاگر کرنا چاہا کہ ان کتب میں بھی کسی میں بھی بابری مسجد کے وجود کا ذکر نہیں ہے ۔ کئی دہے قدیم کیس کی سماعت کے 14 ویں روز اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ پی این مشرا نے ہندو تنظیم کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتب خاص طور پر بابر نامہ میں نہ کسی مندر کو گرانے کا تذکرہ ہے اور نہ ہی ایودھیا میں اولین مغل شہنشاہ کے کمانڈر میر باقی کی جانب سے بابری مسجد کی تعمیر کا ذکر ملتا ہے ۔ بنچ کے دیگر ججس جسٹس ایس اے بوبڈے ، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر ہیں ۔ ایڈوکیٹ مشرا نے بنچ کو بتایا کہ بابر کبھی ایودھیا میں داخل ہی نہیں ہوا ، اس لئے اس کے پاس ایسا کوئی موقع نہیں تھا کہ مندر کو منہدم کرکے 1528ء میں مسجد کی تعمیر کرسکے ۔ علاوہ ازیں میر باقی نام کا کوئی کمانڈر بھی نہیں تھا ۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے بابر نامہ ابھی تک کی پہلی تاریخی کتاب ہے، اس کے ساتھ ایڈوکیٹ مشرا نے مزید کہا کہ میں مدعی ہونے کے ناطے اس کیس کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی عمارت کو مسجد قرار دیا جائے تو انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ بابر اس جگہ کا ’واقف‘ تھا ۔
خبریں سرخیوں میں
٭ چدمبرم کو ای ڈی گرفتاری سے ایک اور دن کیلئے راحت
٭ پون کپور ہندوستان کے سفیر برائے یو اے ای مقرر
٭ عمران خان کا کشمیر پر فرانسیسی صدر میکرن کو فون کال
٭ پاکستان میں سفارتکار کی سیزفائر خلاف ورزی پر طلبی
٭ کراچی کے فضائی حدود کی تین روٹس بند
٭ کشمیر کے راجوری میں پاکستان کی سیزفائرکی خلاف ورزی
٭ کرناٹک میں چلتی ٹرین سے لٹیروں نے فوجی کو پھینک دیا
٭ میکسیکو کے بار میں حملہ آوروں کی آتشزدگی، 25ہلاک