اسلام آباد ۔ 22 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام )پاکستان میں سینیئر ڈاکٹروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا کی وبا کے دوران باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دینے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں طبی ماہرین نے خبردار کیا کہ رمضان میں مساجد میں لوگوں کا رش بڑھتا ہے اور تراویح کے اجتماعات دیر تک جاری رہتے ہیں، ایسے میں ملک میں وائرس پھیلنے اور صورتحال بگڑنے کا خدشہ ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مساجد میں پچاس سال سے زائد عمر کے لوگ زیادہ جاتے ہیں، جس سے ان کی جان کو زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔یہ خط پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو ارسال کیا گیا ہے۔ خط پر آغا خان یونیورسٹی کراچی کے سینیئر ڈاکٹر فیصل محمود اور فلاحی ادارے انڈس ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری خان سمیت 13 سرکردہ ڈاکٹروں کے دستخط ہیں۔ پاکستان میں وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ لوگوں کو زبردستی مساجد میں جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔منگل کو کورونا وائرس سے متعلق میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان نے مساجد کھولنے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا،”پاکستانی ایک آزاد قوم ہے۔ ماہ رمضان میں عبادات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، ہماری قوم مساجد میں جانا چاہتی ہے تو کیا ہم ان لوگوں کو زبردستی کہیں کہ آپ مساجد میں نہ جائیں اور کیا پولیس مساجد میں جانے والوں کو جیلوں میں ڈالے گی؟‘‘پاکستان میں پچھلے ہفتے دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث علماء کے ایک با اثر گروپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ حکومتی لاک ڈاؤن کے تحت مساجد کو مزید بند نہیں رکھ سکتے، جس کے بعد کئی علاقوں میں باجماعت نماز کے لیے مساجد کے دروازے کھول دیے گئے تھے۔
