بارش سے حسین ساگر کی صفائی میں سہولت

   

مورتی وسرجن کے بعد بارش کا پانی آنے سے جھیل کی حالت بحال، پولیوشن کنٹرول بورڈ

حیدرآباد ۔ 16 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے حسین ساگر کے تجزیہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ریاست میں ہوئی شدید بارش اس تالاب کیلئے ایک اچھی بات ثابت ہوئی ہے۔ اس سال حسین ساگر میں گنیش مورتیوں کا وسرجن تنازعہ میں آ گیا تھا کیونکہ ہائیکورٹ نے پی او پی مورتیوں کے شہر کی اس جھیل میں وسرجن پر امتناع عائد کیا تھا اور سپریم کورٹ نے اس کی اجازت دی۔ پولیوشن بورڈ کے واٹر کوالیٹی پراجکٹس کے تجزیہ میں کہا گیا کہ اس جھیل کو کافی نقصان پہنچا تھا لیکن شہر میں ہوئی شدید بارش سے اس کی حالت بحال ہوئی ہے۔ ٹی ایس پی سی بی کے مطابق مورتیوں کے وسرجن کے دوران اس جھیل میں ٹوٹل ڈیزلوڈ سالڈس (TDS) اور کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (COD) اور بائیولوجیکل آکسیجن ڈیمانڈ (BOD) میں اضافہ ہوا۔ چھ مقامات این ٹی آر پارک پلیٹ فارم 1 اور 2 ، لمبنی پارک، نیکلس روڈ، لیپاکشی ہینڈی کرافٹس اور مجسمہ بدھا سے 8 اور 28 ستمبر کے درمیان نمونے حاصل کئے گئے۔ پولیوشن کنٹرول اور بورڈ کے ممبر سکریٹری کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ تمام مقامات پر مورتیوں کے وسرجن کے دوران ٹی ڈی ایس میں اضافہ ہوا۔ بالخصوص نیکلس روڈ پر اس میں بہت اضافہ ہوا۔ تمام مقامات پر سی او ڈی اور بی او ڈی کی سطح میں اضافہ ہوا تھا‘‘ ۔اس کے نتیجہ میں اس جھیل میں آکسیجن کی سطح میں کمی ہوئی۔ تاہم بارش نے اس جھیل کیلئے ایک اہم رول ادا کیا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’اس سال تلنگانہ میں 7 تا 29 ستمبر کے درمیان شدید بارش ہوئی۔ شہر حیدرآباد میں بھی 27 ستمبر کو شدید بارش ہوئی جس کی وجہ حسین ساگر جھیل میں شہر کے حصوں سے بارش کا پانی آیا اور اس سے تمام مقامات پر جھیل کی حالت کے معمول پر آنے میں مدد ہوئی۔