حیدرآباد ۔ 27 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : گذشتہ ہفتہ ہوئی متواتر بارش سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) اور خانگی ایجنسیوں کی جانب سے بھی شہر میں کامپریہنسیو روڈ مینٹیننس پروگرام (CRMP) کے تحت تعمیر کی گئی سڑکوں کا ناقص معیار آشکار ہوگیا ہے ۔ کئی اہم مقامات پر سڑکیں اور انٹرنل روڈس کو بری طرح نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ موٹر گاڑی والوں اور پیدل راہگیروں کو بھی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بھی حال میں حیدرآباد کی سڑکوں کی خراب حالت پر توجہ دی اور اس سلسلہ میں جی ایچ ایم سی کی سرزنش کی ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے داخل کی گئی ایک رپورٹ کی سماعت کے دوران عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے آخر اس قدر تاخیر کیوں کی جارہی ہے جب کہ لوگ سڑکوں پر ہونے والے گڑھوں کے باعث لقمہ اجل بن رہے ہیں ۔ کئی شہریوں نے ٹوئیٹر کے ذریعہ ان کی مشکلات اور مسائل کا اظہار کیا ہے ۔ سڑکوں کے ناقص معیار کو بتانے کے لیے کمیونٹی پر مبنی ایک بیداری پلیٹ فارم ، حیدرآباد یو ڈیزرو (HYD) نے گڑھوں کے ساتھ سیلفی لینا شروع کیا ۔ بعض شہریوں نے ریاستی حکومت سے خواہش کی کہ وہ کوکہ پیٹ اور خانہ میٹ کی اراضیات کو ہراج کے ذریعہ فروخت کرتے ہوئے حاصل کئے جانے والے 2,750 کروڑ روپئے کو انتخابی فوائد کے لیے دوسرے اضلاع میں خرچ کرنے کے بجائے دونوں شہروں میں سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانے اور گڑھوں کو بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے ۔ ایک ٹوئیٹر یوزر نندکشور نے پوسٹ کیا کہ ’ کیا حیدرآباد کی سڑکوں کی حالت کبھی بدلے گی ؟ ‘ انہوں نے چیف منسٹر ، کابینی وزراء اور عہدیداروں سے شہر کی سڑکوں کی خراب حالت پر توجہ دینے کی درخواست کی ‘ ۔ ایک اور حیدرآبادی نے ٹوئیٹ کیا کہ شہر کی کئی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنا شہریوں کے لیے ایک ڈراونی خواب بن گیا ہے ۔ گذشتہ ہفتہ ہوئی متواتر بارش سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حدود میں سڑکوں پر تقریبا 4500 گڑھے ہوگئے ہیں ۔ آئندہ دنوں میں مزید بارش کی پیش قیاسی کے ساتھ سڑکوں کی حالت مزید ابتر ہوجانے کا امکان ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کو موٹر گاڑیوں کو چلانے کے قابل بنانے گڑھوں کو بھرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا کیوں کہ پیاچنگ ورکس شروع کرنے کے لیے خشک موسم ہونا چاہئے کیوں کہ بارش کے دوران بیئومن نکل جائے گا ۔۔