بارش سے متاثرہ افراد کو کھانے کی ضرورت نہیں ، مسائل کو حل کرنے کی ضرورت

   

پانی کی نکاسی پر توجہ دی جائے ، ایک وقت کے کھانے کی روایت مستقل حل نہیں
حیدرآباد۔5مئی (سیاست نیوز) شہر میں بارش کے بعد جن مکانات میں پانی داخل ہوا ہے ان مکانات کے مکینوں کو کھانے کے پیاکٹس تقسیم کرتے ہوئے اسے راحت کاری کے کاموں کا نام دیا جانا روایت بن چکی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں گذشتہ یوم ہونے والی بارش اور نشیبی علاقوں میں مکانات میں پانی داخل ہونے کے بعد معصوم بچوں اور تکلیف میں مبتلاء مکینوں کو ایک وقت کا کھانا فراہم کرتے ہوئے ہمدردی کرنے پر اب شہریوں میں برہمی پائی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان علاقوں میں پانی داخل نہ ہو اور ان علاقوں کے عوام محفوظ رہیں ان انتظامات کے بجائے بارش کے بعد انہیں ایک وقت کا کھاناتقسیم کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ پانی کی نکاسی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے علاوہ بہادر پورہ اور دیگر علاقوں کے عوام اب یہ استفسار کر رہے ہیں کہ کمر تک پانی میں تصویر کشی کروانے پر منتخبہ نمائندوں کو کیوں مجبور ہونا پڑرہا ہے کیوں وہ پانی کی نکاسی کے معاملوں کی یکسوئی نہیں کرے! کیوں پانی جمع ہونے کے بعد پہنچ کر شہریوں اور خود کو خطرے میں ڈالتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عوام کی تکلیف کے وقت وہ بھی ان کے ساتھ ہیں! حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے عوام نے بتایا کہ ان کے مسائل کو حل کرنا اہم ہے اور پانی کی نکاسی کے عمل کو بہتر بنانے کے کئی ایک موقع حاصل ہورہے ہیں اور گذشتہ 5 برسوں کے دوران متعدد مرتبہ بارش کے بعد یہ اعلان کئے گئے کہ آئندہ بارش سے پانی کی نکاسی کا عمل بہتر ہوجائے گا لیکن اب تک بھی پانی کی نکاسی کے عمل کو بہتر نہیں بنایا جاسکا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں نالوں پر کئے جانے والے قبضوں کی برخواستگی کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے سخت احکامات جاری کرنے کے علاوہ کروڑہا روپئے کے اخراجات کے ذریعہ شہر حیدرآباد کو سیلاب سے پاک بنائے جانے کے اعلانات کئے گئے تھے لیکن پرانے شہر کے کئی نالوں پر موجود سیاسی قبضہ جات جوں کے توں برقرار ہیں اور کسی عہدیدار میں اتنی جرأت تک نہیں ہے کہ وہ نالوں پر تعمیر کی گئی عمارتوں کو نوٹس جاری کرسکیں جبکہ ریاستی حکومت کے محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دونوں شہروں میں نالوں اور پانی کی بہاؤ کے راستوں پر کی گئی تعمیرات کو بغیر کسی نوٹس کی اجرائی کے منہدم کردیا جائے گا لیکن علامتی طور پر غریب شہریوں کے مکانات کو منہدم کرنے اور انہیں نالوں کے قریب سے منتقل کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ حکومت نے جو اعلان کیا اس پر عمل آوری کی جا رہی ہے لیکن کسی بھی سیاسی قبضہ کی برخواستگی عمل میں نہیں لائی گئی جس کے سبب اب بھی پرانے شہر کے کئی علاقوں میں پانی کی نکاسی کا معاملہ جوں کا توں برقرار ہے۔م