ڈھاکہ،15جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع کاکس بازار میں شدید مانسونی بارش اور اس کی وجہ سے تودے گرنے سے اب تک 50ہزار روہنگیا متاثر ہوئے ہیں اور جھونپڑی نما 5000 پناہ گاہیں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ اس کی وجہ سے اب تک کم از کم 10لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات نے کہا کہ کاکس بازار ضلع میں 2 جولائی سے اب تک کم از کم 58.5سینٹی میٹر(تقریباً دو فٹ)بارش درج کی گئی ہے ۔اس ضلع میں میانمار میں فوج کی کارروائی کے بعد 10لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین مختلف راحت کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور زیادہ تر نے رہنے کے لئے جھونپڑی نما گھر بنا رکھے ہیں۔ انٹرنیشنل آرگینائزیشن فار امیگریشن (آئی او ایم)کے ترجمان نے کہا کہ جولائی کے پہلے دو ہفتوں میں پناہ گزین کیمپوں میں شدید بارش سے تودے گرنے کے واقعات پیش آئے جس میں ہزاروں مکانات تباہ ہوگئے ۔پناہ گزینوں کے زیادہ ترراحت کیمپ پہاڑی ڈھلانوں پر بنے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ میانمار کی سرحد کے پاس بنے کیمپوں میں اپریل سے 200سے زیادہ مرتبہ تودے گرنے کے حادثے ہوئے ہیں اور کم از کم 10 لوگ مارے گئے ہیں جبکہ اس دوران کل 50ہزار پناہ گزین متاثر ہوئے ہیں۔پچھلے ہفتے شدید بارش کی وجہ سے دو کمسن روہنگیاؤں کی مو ت ہوگئی،جبکہ 6000 دیگر پناہ گزین بے گھر (راحت کیمپوں کے بغیر)ہوگئے ۔اقوام متحدہ نے کہا کہ پانچ اسکول بری طرح اور 750سے زیادہ تعلیمی مراکز جزوی طورپر تباہ ہوگئے اور اس سے تقریباً 60ہزار بچوں کی اسکولی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔بے گھر پناہ گزینوں نے کہا کہ وہ بارش سے متاثر ہیں کیونکہ اس سے روزانہ کے استعمال کا سامان راحت کیمپوں تک پہنچانے میں دقت ہورہی ہے ۔ایک روہنگیا پناہ گزین نورین جان نے کہا کہ مٹی کے دلدل سے ہوکر کھانا تقسیم کرنے والے مراکز تک جانا مشکل ہے ۔بارش اورتیز ہوا نے ہماری زندگی اور زیادہ مشکل بنا دی ہے ۔پناہ گزینوں نے پینے کے پانی کی کمی اورصحت سے متعلق ایک بھیانک بحران پیدا ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے ۔