شہر میں تمام نالوں کو بند کرنے کا فیصلہ ، نالوں پر کیپانگ کی تعمیرات کیلئے 300 کروڑ روپئے منظور ، کے ٹی آر کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کی دیگر بلدیات میں بارش کا جائزہ لیا اور آئندہ دو ہفتوں تک بلدی ملازمین کی رخصت منسوخ کردی ۔ اوپن نالوں کے ڈھکن کو بند کردینے کا فیصلہ کرتے ہوئے 300 کروڑ روپئے کے مصارف سے نالوں پر گیپانگ ( ڈرینج باکس) تعمیر کرنے کا اعلان کیا ۔ کے ٹی آر نے آج بارش کا جائزہ لیا ۔ اس اجلاس میں محکمہ بلدی نظم و نسق ، جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔ کے ٹی آر نے حیدرآباد کے بشمول تمام بلدیات میں بارش کی صورتحال پر عہدیداروں سے رپورٹ طلب کی ۔ عوام کو جانی مالی نقصانات سے بچانے کیلئے چوکسی اختیار کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ بھاری بارش کی پیش قیاسی کے پیش نظر آئندہ دو ہفتوں تک عہدیداروں کی رخصت منسوخ کردی ، انہیں سڑکوں اور نشیبی علاقوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گذشتہ 10 دن کے دوران 54 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ۔ عہدیداروں نے کے ٹی آر کو بتایا کہ جن علاقوں میں زیادہ بارش ہورہی ہے وہاں کے عوام کو راحت پہنچائی جارہی ہے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے بارش سے جن علاقوں میں سڑکوں کو نقصان پہنچا وہاں فوری مرمتی کام انجام دینے کے احکامات جاری کئے ۔ بارش کے رکنے کے بعد تمام بلدیات میں صفائی کے کاموں پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا ۔ شہر کے تمام اوپن نالوں کے ڈھکن کو فوری بند کردینے کی ہدایت دی ۔ اوپن نالوں پر کیپانگ ( ڈرینج باکس ) تعمیر کرنے 300 کروڑ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا ۔ شہر کے تمام نالوں کی تفصیلات اکٹھا کرنے کی ہدایت دی ۔ اس موقع پر کے ٹی آر نے کہا کہ 2میٹر سے کم چوڑائی والے نالوں پر کیپانگ تعمیر کی جائے گی ۔ دو میٹر سے زیادہ چوڑے نالوں پر گرین ٹریبونل اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کارروائی کی جائیگی ۔ ایسے کاموں کو جتنی جلد ممکن ہوسکے پورا کرنے خصوصی منصوبہ تیار کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ اگر کسی نالے پر کیپانگ کی گنجائش نہیں ہے تو وہاں موثر فینسنگ کے احکام جاری کئے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں شامل نالوں کی تفصیلات موجود ہے ۔ تاہم شہر بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ مختلف علاقوں میں موجود نالوں کی تفصیلات اکٹھا کرنے کی زونل کمشنرس ، ڈپٹی کمشنرس کو ہدایت دی ۔ کے ٹی آر نے مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کرنے اور فوری منہدم کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے حدود میں پانی کی نکاسی کیلئے 170 ٹیمیں کام کررہی ہیں ۔ انہیں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور ساتھ ہی جہاں گڑھے کھودے گئے یں ان کی حصاربندی کرنے کے علاوہ پانی ٹھہرنے کے مقامات پر خصوصی ٹیموں کو سرگرم رکھنے کی ہدایت دی ۔