پیر کو بجٹ کے بارے میں قطعی فیصلہ، صدرنشین محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد: صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے حیدرآباد میں بارش سے متاثرہ خاندانوں کے لئے وقف بورڈ کی جانب سے غذائی اجناس کی سربراہی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں پیر کے دن عہدیداروں اور بورڈ کے ارکان کے ساتھ مشاورت کے بعد غذائی اجناس کی تقسیم کے لئے رقم کا تعین کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کورونا لاک ڈاون کے دوران وقف بورڈ نے غریب خاندانوں میں غذائی اجناس تقسیم کئے تھے، اسی طرح بارش سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جائے گی ۔ محمد سلیم نے کہا کہ شہر میں کئی علاقے ابھی بھی پانی کی زد میں ہیں اور عوام اپنے مکانات سے باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔ ایسی کالونیوں اور غریب بستیوں میں وقف بورڈ کی جانب سے غذائی اجناس کے پیاکٹس کی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں غریب اور متوسط خاندان بارش کی تباہ کاریوں کے سبب مشکلات سے دوچار ہیں۔ حکومت کی سطح پر بچاؤ راحت کام انجام دیئے جارہے ہیں لیکن مصیبت کی اس گھڑی میں وقف بورڈ عوام کی خدمت کو اپنی ذمہ داری تصور کرتا ہے۔ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے اوقافی جائیدادوں کو وقف کیا گیا تھا اور اوقافی جائیدادوں سے حاصل ہونے والی آمدنی منشائے وقف کے مطابق غریبوں اور ضرورت مندوںکی امداد پر خرچ کی جا سکتی ہے ۔ محمد سلیم نے بتایا کہ بورڈ کے عہدیداروں کے ذریعہ متاثرہ علاقوں کا سروے کیا جائے گا اور متاثرین کی نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غذا سے زیادہ غذائی اجناس کی سربراہی کی ضرورت ہے تاکہ گھریلو سامان کے نقصانات کا شکار خاندان کم از کم ایک ہفتہ تک گھر میں پکوان کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے مہلوکین کے ورثاء کو ایکس گریشیا کا اعلان کیا گیا جبکہ مکانات کے نقصانات پر حکومت کی جانب سے نہ صرف امداد بلکہ دوبارہ تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست بھر میں بارش کی تباہ کاریوں سے فکرمند ہیں اور انہوں نے تمام وزراء اور ضلع کلکٹرس کو امدادی کاموں کی ہدایت دی ہے۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ روزانہ بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بچاؤ اور امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے متاثرین کی محفوظ مقامات منتقلی اور انہیں غذا کی سربراہی کی ہدایت دی ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ وقف بورڈ کے ارکان سے مشاورت کے ذریعہ غذائی اجناس کے پیاکیج کو منطوری دی جائے گی ۔