بارہ بنکی میں شہید مسجد کے احاطہ سے پانچ مسلم نوجوان گرفتار

   

بارہ بنکی۔ یوپی کے بارہ بنکی ضلع میں تحصیل رمسنہی گھاٹ میں مسجدکی شہادت کے بعدصورتحال کشیدہ بتائی جارہی ہے۔ مسجدکے احاطے میں گھومنے والے 5 افرادکو پولیس نے پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ یہ الزام لگایاگیا ہے کہ تحصیل کے احاطے کے قریب کچھ جوانوں کے ساتھ ایس ڈی ایم ہاؤس کی ویڈیو بنانے پربحث ہوئی جس کے بعد ان پر حملہ کردیا گیا۔ پولیس نے ان نوجوانوں کو اپنی تحویل میں لے کر کوتوالی لایا۔ دوران تفتیش ملزمان کی شناخت محمد سعد ، محمد متین خان ، سلیمان ، فرخ احمد خان ، محمدکامل ساکن لکھنو کے نام سے ہوئی ہے۔ نوجوانوں کی آمد کی وجہ واضح نہ ہونے پر پولیس نے انھیں جیل بھیج دیا ہے۔ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس منوج پانڈے کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز رامسنہی گھاٹ تحصیل کے احاطے میں 5 افراد کی مشکوک سرگرمی کے پیش نظر ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ ملزمان کے خلاف دیگر قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔علاقائی بی جے پی ایم ایل اے ستیش شرما نے سوشل میڈیاپلیٹ فارم کے ذریعہ رہائشی تحصیل کمپلیکس اور ایس ڈی ایم دیوانشو پٹیل کی سیکیورٹی بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے لکھاہے کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے غیر قانونی قبضے کے خلاف مہم کے تحت ضلعی انتظامیہ کی جانب سے میرے حلقہ دریاآباد ، بارہ بنکی میں مئوثر کارروائی کی۔
لیکن کچھ عناصر جان بوجھ کر ضلع اور ریاست کا ماحول خراب کرنے کی نیت سے متحرک ہیں۔جس کے تحت آج رامسنہی گھاٹ ایس ڈی ایم گھر کے سامنے 5 مشتبہ افراد کو پکڑا گیا ، جن کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔ میں سب کو صاف طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ وگی جی کی قیادت میں ریاست میں مکمل امن و سلامتی کا ماحول کسی بھی قیمت پر خراب نہیں ہونے دیا جائے گا اور ہم سب افسران کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ وہ اپنی حفاظت کے بارے میں بھی فکرمندہیں۔