حیدرآباد : میٹرو ریل سرویسیس میں گذشتہ چند ماہ میں مختلف وجوہات کی بناء زائد از تین مرتبہ خلل ہوا جس کی وجہ اس عالمی معیار کی سرویس میں سفر کرنے والوں میں برہمی پیدا ہوئی۔ شہر میں میٹرو ریل سرویس ناقابل بھروسہ ہوگئی ہے کیونکہ یہ سرویسیس فنی خرابیوں کی وجہ ایک یا کسی دوسرے اسٹیشن پر پھنس جارہی ہیں۔ جس کی وجہ سے پورے میٹرو کاریڈرس میں میٹرو ٹرین سرویسیس متاثر ہورہی ہیں۔ میٹر سرویسیس کو شروع کرنے کے بعد سے وہ 2018ء میں دو مرتبہ بیچ میں پھنس گئی تھیں، 2019ء میں چھ مرتبہ اور 2020ء میں پانچ مرتبہ اور 2021ء میں ایک ماہ کم وقت میں دو مرتبہ رک گئیں۔ حاصل میں میٹرو سرویس جوبلی ہلز اور چیک پوسٹ اسٹاپ کے درمیان چلتی وقت رک گئی تھی۔ منگل کو گاندھی بھون اسٹیشن پر فنی خرابی کے باعث سرویس میں خلل پیدا ہونے کے بعد میٹرو میں سفر کرنے والے مسافرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تقریباً اسی وقت موسیٰ رام باغ پر بھی سرویسیس میں فنی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ تاہم میٹرو کے عہدیداروں نے کہا کہ سرویسیس معمول کے مطابق تھیں اور خلل چند منٹ کیلئے ہوسکتا تھا اور سرویسیس کو پھر سے شیڈول کے مطابق چلانا شروع کردیا گیا۔ ایل اینڈ ٹی میٹرو کا مالیاتی موقف شدید متاثر ہے کیونکہ میٹرو سرویسیس چند ماہ تک بند رہیں۔ اس ادارہ کو اس کے ملازمین کی اجرتوں کی ادائیگی کیلئے قرض حاصل کرنا پڑا۔ کورونا وباء کے آغاز سے پہلے روزانہ اوسطاً 5 لاکھ مسافرین میٹرو سرویسیس سے سفر کرتے تھے۔ اب اس سرویس سے سفر کرنے والے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے جو روزانہ 2 لاکھ سے زیادہ ریکارڈ کی جارہی ہے۔ ایل اینڈ ٹی میٹرو مالیاتی مشکلات سے دوچار ہے اس لئے اس نے پراجکٹ کو مؤخر کردیا ہے جس سے اس پر 2000 کروڑ روپئے تک مالی بوجھ عائد ہوگا۔ ایل اینڈ ٹی عہدیداروں نے مرکز کو ایک سے زائد مرتبہ مکتوب تحریر کرتے ہوئے مالیاتی نقصانات کو برداشت کرنے کی خواہش کی۔ ریاستی حکومت کو بھی اس سلسلہ میں ہنوز فیصلہ کرنا ہے۔