بازاروں میں پابندی نہیں ‘ مساجد ہنوز بند

   

نماز کی اجازت دینے بزرگ شہریوں کا اصرار ‘ امتناع ناقابل فہم
حیدرآباد۔ لاک ڈاون رعایت میں ہجوم پر کوئی امتناع نہیں ہے اور نہ بازاروں میں کسی قسم کی تحدیدات ہیں لیکن مساجد سے متعلق فیصلہ پر تنقیدیں کی جانے لگی ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ وبا کے سبب جو تحدیدات عائد کی گئی ہیں اس کا ہر گوشہ کی جانب سے احترام کیا گیا اور اب جبکہ نرمی میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا تو رعایت کے اوقات میں مساجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت دی جانی چاہئے کیونکہ بازاروں میں ہجوم کیلئے کوئی تحدیدات نہیں ہیں اور نہ تعداد کا کوئی تعین کیا گیا لیکن مساجد میں نماز کی ادائیگی کے معاملہ میں تحدیدات ہیں جس سے شہریو ںمیں بے چینی ہے ۔مساجد کمیٹیوں پر اہلیان محلہ اور بزرگ شہری دباؤ ڈال کر رعایت کے اوقات میں مساجد میں نماز کی اجازت دینے خواہش کر رہے ہیں ۔ شہریوں کا کہناہے کہ جب بازارو ں میں بے دریغ لوگ گھوم سکتے ہیں اور خریداری کرسکتے ہیں تو مساجد میں نماز پر امتناع ناقابل فہم ہے۔بازار میں ہی نہیں بلکہ گھر سے نکلتے وقت چہرہ پر ماسک کا لزوم عائد کیا جاچکا ہے تومساجد میں ماسک کے ساتھ نماز ادا کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔ مساجد میں نماز کے سلسلہ میں رعایت اور وباء کے دور میں رجوع الی اللہ ہونے کی راہیں ہموار کرنے مسلم قائدین و نمائندوں سے خواہش کی کہ وہ حکومت سے میں نمائندگی کریں۔