عارضی طور پر وائس چانسلر کی حیثیت سے پروفیسر وینکٹ رمنا نے جائزہ حاصل کرلیا، معیاری غذا کی فراہمی کا تیقن
مدہول۔ باسر ٹریپل آئی ٹی کے طلبا نے کل رات منظم انداز میں دھرنا دیتے ہوئے اپنے مطالبات کی تکمیل پر زور دیا اور ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی سے مطالبہ کیا کہ جب تک ہمارے مطالبات کی تکمیل نہ ہوگی دھرنے کو ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ مزید دھرنے میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ دیا اور کہا کہ اگر حکومت کو ہم طلبا کی زرا سی بھی پرواہ ہو تو وہ فوری ہمارے لیئے راحتی و حفاظتی اقدامات کرے اور ہمارے 12 مطالبات کی جلد از جلد تکمیل کرتے ہوئے ہمیں راحت بخشیں کیونکہ بروز پیر سے فائنل ایر کے امتحانات بھی ہونے والے ہیں لہذا حکومت فوری طلباکے مسائل کو حل کرتے ہوئے وائس چانسلر کا تقرر کریں تاکہ طلبا کو تعلیمی ضرر نہ پہنچے بعد ازاں طلبا کے احتجاج اور مطالبات کے بعد حکومت تلنگانہ نے باسر ٹریپل آئی ٹی کیلئے پروفیسر وینکٹ رمنا کو عارضی طور پر بحثیت وائس چانسلر تقرر کردیا واضح رہیکہ باسر ٹریپل آئی ٹی میں پچھلے دو دن قبل سمیت غذا کی فراہمی سے سینکڑوں طلبا متاثر ہوچکے تھے جنھیں نظام آباد کے دواخانوں میں شریک کروایا گیا تھا اطلاع کے مطابق تمام طلبا روبرو صحتیاب ہورہے ہیں اور دواخانوں سے ڈسچارج بھی ہورہے ہیں جسکے بعد سے ٹریپل آئی ٹی کے طلبا نے احتجاج کرتے ہوئے 12 مطالبات کیئے تھے جس میں سے حکومت نے تین مطالبات کی تکمیل کی جس میں ڈیجیٹل لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا، دوسرا طلباء میں لیب ٹیپ تقسیم کئے گئے اور تیسرا بنیادی سہولتوں کے فقدان کی تکمیل کی جائے گی اسکے علاوہ طلباء نے وائس چانسلر کے تقرر کا بھی پر زور مطالبہ کیا تھا جسکے بعد حکومت تلنگانہ نے فوری اقدامات کرتے ہوئے باسر کالج کیلئے عارضی طور پر وائس چانسلر کا تقرر کردیا اور کل رات وائس چانسلر کی حیثیت سے پروفیسر وینکٹ رمنا نے اپنے عہدے کا جائزہ حاصل کرلیا جس کے بعد سے طلباء میں امید کی ایک کرن جاگ اٹھی کہ اب انھیں مسائل کا سامنا کرنے کی مزید نوبت پیش نہیں آئے گی تقرر شدہ وائس چانسلر پروفیسر وینکٹ رمنا نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہاسٹل میں اب طلباء کو کسی بھی دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ طلباء کوہربار ڈاکٹرس کی جانچ کے بعد ہی غذا کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اسکے علاوہ ناقص غذا فراہم کرنے والے کنٹراکٹرس کا لائسنس بھی منسوخ کردیں گے۔ طلبا کو تیقن دیا کہ خود وی سی نے تیار شدہ غذا کا ذائقہ طلباء کے سامنے چکھا انھوں نے مزید کہا کہ ہاسٹل میں ایمرجنسی سرویس 108 کی فراہمی کیلئے وزیر صحت سے بات بھی ہوئی ہے جنھوں نے فراہم کرنے کا تیقن دیا اور کہا کہ کالج میں ہمیشہ تعلیم، بنیادی سہولتیں ،متوازن غذا اور صحت کے نگہداشت پر خصوصی توجہ دینے کا عزم کیا اس کے علاوہ طلبا سے کہا کہ باسر کالج کے جملہ مسائل کیلئے ہائیر ایجوکیشن اور وزارت تعلیم سے بھی بات کی گئی آئندہ دنوں میں بہت جلد تمام مسائل کو ایک ایک کرکے مستقل طور پر حل کیا جائے گا علاوہ ازیں ہاسٹل کے دو میلس انتظامیہ کو طلبا میں ناقص غذا کی فراہمی پر فوری معطل کردیا گیا اور ان پر مقدمات بھی درج کرلئے گئے جبکہ ان دو میس کی زائد زمہ داری ہاسٹل کے دیگر غذائی انتظامیہ کنٹراکٹرس کو سونپ دی گئی کالج انتظامیہ کے مطابق فارنسک اعلی عہدیداروں کی ٹیم نے ہاسٹل پہنچ کر سمیت غذا کے نمونے حاصل کرلئے جس کی مکمل جانچ کے بعد غذائی کنٹراکٹرس پر مزید قانونی کاروائی کرنے کا تیقن دیا ۔