انقرہ، : انقرہ حکومت کی جانب سے دو روز قبل اپنے زیر انتظام دو آبناؤں کی بندش کے فیصلے کے بعد ترکی اور دنیا بھر میں مونٹرو معاہدہ زیر بحث آ گیا ہے۔سال 1936 میں طے پائے گئے اس معاہدے کے تحت آبنائے فاسفورس اور درہ دانیال کی نگرانی ترکی کے حوالے کر دی گئی تھی۔ معاہدے میں ترکی کے علاوہ سابق سوویت یونین ، برطانیہ اور چھ دیگر ممالک شامل تھے۔مذکورہ آبنائے اور درے کی بندش سے ترکی کن مقاصد کا حصول چاہتا ہے ؟ اور یہ اقدام یوکرین میں ایک ہفتے سے جاری روسی فوجی آپریشن پر کس طرح اثر انداز ہو گا ؟ایتھنز یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے ترک پروفیسر چنگیز اختر کے مطابق ترکی جانب سے دونوں آبناؤں کی بندش روس کے جاری حملے پر معمولی طور سے اثر انداز ہو گی۔بالخصوص جب کہ جزیرہ نما قرم میں روس کا پوری طرح تیار بحری بیڑہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ نے مونٹرو سمجھوتے کی شق 19 لاگو کرتے ہوئے دونوں آبناؤں کو بند کر دیا۔ اس کے باوجود ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نیٹو اتحاد میں ترکی وہ واحد ملک ہے جس نے روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند نہیں کیں۔