سی سی ٹی وی کیمروں اور پولیس آؤٹ پوسٹ کی ضرورت، ماحولیات کے جہدکار محمد عابد علی کا ڈی جی پی کو مکتوب
حیدرآباد۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) باغ عامہ نامپلی کے حدود میں حکام کی لاپرواہی اور عدم توجہی کے نتیجہ میں غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اور متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے باغ عامہ کو خوبصورت بنانے اور جھیل کی بحالی کے اقدامات کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں بعض مذہبی گروپس کی جانب سے غیر مجاز تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔ باغ عامہ جو خاندانوں اور بچوں کے لئے ایک تاریخی تفریحی مقام ہے غیر مجاز قبضوں کے نتیجہ میں اس کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ شہریوں اور سماجی کارکنوں نے حکام سے فوری مداخلت کرتے ہوئے غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کا مطالبہ کیا۔ باغ عامہ کی اراضی کے ناجائز استعمال کو روکتے ہوئے غیر مجاز طور پر مذہبی تعمیرات کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں جہدکار محمد عابد علی نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے باغ عامہ کے حدود میں جاری سرگرمیوں سے واقف کرایا۔ انہوں نے مکتوب کی نقل نیشنل گرین ٹریبونل، سنٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ، چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ، صدر نشین انسانی حقوق کمیشن اور حکومت کے ذمہ داروں کو روانہ کی ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ باغ عامہ کے حدود میں اسمبلی اور کونسل کے علاوہ دیگر اہم دفاتر موجود ہیں۔ انہوں نے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ غیر مجاز تعمیرات کی نگرانی اور مستقل طور پر پولیس اور پوسٹ کے قیام پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 150 سالہ قدیم باغ عامہ حیدرآبادی عوام کے لئے اہم تفریحی مقام ہے۔ باغ عامہ کے تحت ہیلت میوزیم، جواہر بال بھون، اندرا پریہ درشنی آڈیٹوریم، للت کلا تھرانم اور دیگر ادارے موجود ہیں۔ باغ عامہ میں روزانہ تقریباً 3 تا 4 ہزار افراد واکنگ کے لئے آتے ہیں۔ محمد عابد علی نے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا مطالبہ کیا تاکہ باغ عامہ کے ایک حصہ میں غیر مجاز طور پر مذہبی تعمیرات کو روکا جاسکے۔ 1 ؍ F ؍M