بالی ووڈ میں ’’دفعہ 370‘‘ اور کشمیر کے موضوع پر فلم بنانے کی دوڑ شروع

   

Ferty9 Clinic

سینکڑوں فلم ساز انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز اسوسی ایشن سے رجوع
ممبئی۔7 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بالی ووڈ کے کئی فلم سازوں نے اس دفعہ کے نام پر اپنے آنے والی فلموں کے نام رجسٹر کروانے کے تعلق سے معلومات حاصل کرنی شروع کردیں ہیں۔ دوشنبہ کے دن مرکز نے جموں و کشمیر کی ریاست کو مرکزی زیر انتظام ریاستوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کی تجویز کے بل کو بھی منظوری دے دی۔ اچانک مذکورہ دفعہ کی تبدیلی اور اس کے بعد فلم سازوں کی اس میں گہری دلچسپی کے نتیجے میں کئی فلم بنانے والے انڈین موشن پکچرس پروڈیوسرز اسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے) سے اپنے آئندہ امکانی فلموں کے نام رجسٹر کروانے کے لیے رجوع ہورہے ہیں۔ کئی فلموں کے نام جیسے ’’دفعہ 370‘‘ اور ’’کشمیر ہمارا ہے‘‘ رجسٹر کروائے جاچکے ہیں۔ فلم پروڈیوسروں کے اس ادارے کے قریب ایک ذریعہ نے بتایا کہ یہ رجحان بالکل نیا نہیں ہے۔ فلم سازوں کی تنظیم کے ایک واقف کار نے بتایا کہ ’’ایسا نہیں ہے کہ آپ نے اپنے فلم کا ایک نام تجویز کیا اور اسے منظوری دے دی گئی۔ فلم سازوں کی ایک بڑی تعداد اس موضوع پر فلم بنانا چاہتی ہے کیوں کہ یہ ا یک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ ہم نے دوسرے لوگوں سے بھی ایسی ہی معلومات کے حصول اور فلم کا نام ’دفعہ 370‘‘ رکھنے کی تجویز وصول کی ہیں۔ بعض ذرائع کے بموجب جب کبھی کوئی بڑا واقعہ یا قابل دید واقعہ پیش آتا ہے فلم ساز اس پر فلم بنانے کی کوشش شروع کردیتے ہیں۔ مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ آئندہ چند دنوں میں مزید معلومات حاصل کی جائیں گی۔ ہمیں توقع ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اس سے متعلق اپنی فلموں کے نام رجسٹر کروائیں گے۔ فلموں کے نام سے قبل فلم سازوں کو ایک بنیادی کہانی پر کام کرنا ہوگا اور فلم کا ایک پلاٹ تیار کرنا ہوگا۔ مذکورہ ذرائع نے مزید بتایا کہ ’’حتی کہ پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد فلموں کے اس قسم کے ناموں کا سیلاب آگیا تھا لیکن ہم نے صرف بعض لوگوں ہی کو یہ عنوان استعمال کرنے کی اجازت دی اور دوسروں کے عنوانات کو مسترد کردیا۔