قرض تنازعہ
نئی دہلی۔ 9 فروری (ایجنسیز) بالی ووڈ کے معروف کامیڈین اداکار راجپال یادوایک بار پھر قانونی مشکلات میں گھر گئے، ان کو طویل عرصے سے جاری مالی تنازعہ کیس میں سرینڈر کرنے کے بعد قانونی کارروائی کے تحت تہاڑ جیل منتقل کر دیا گیا۔یہ کیس 2010ء کا ہے جب راجپال یادو نے دہلی کی کمپنی مرلی پروجیکٹس پرائیوٹ لمیٹڈ سے اپنی ہدایت کاری میں بننے والی فلم اتہ پتہ لاپتہ کے لیے مبینہ طور پر 5 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا تھا، فلم باکس آفس پر ناکام رہی جس کے باعث قرض کی ادائیگی میں مشکلات پیش آئیں اور معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔اپریل 2018ء میں مجسٹریٹ کی عدالت نے اداکار اور ان کی اہلیہ رادھا کو نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی دفعہ 138 کے تحت سزا سنائی تھی، جو مالی لین دین میں چیک باؤنس ہونے سے متعلق ہے، اس کے بعد اپیلوں اور دیگر قانونی کارروائیوں کے باعث یہ معاملہ ایک دہے سے زائد عرصے تک زیرِ سماعت رہا۔حالیہ پیش رفت میں اداکار نے کیس کے سلسلے میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا، جس کے بعد انہیں بقایا رقم کی عدم ادائیگی کے باعث جیل بھیج دیا گیا۔سود اور جرمانوں سمیت واجب الادا رقم تقریباً 9 کروڑ روپئے تک پہنچ چکی ہے۔راجپال یادو کئی فلموں میں اپنی یادگار مزاحیہ اداکاری کیلئے مشہور ہیں، تاحال اداکار کی جانب سے حالیہ عدالتی فیصلے پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔قانونی ماہرین کے مطابق نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔