نظام آباد۔22 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بانسواڑہ میں کل شام پیش آئے فرقہ وارانہ واقعہ کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے جمعیت العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کے جنرل سکریٹری مفتی محمود زبیر خاسمی نے کہا کہ ریاست میں وقفہ وقفہ سے پیش آنے والے ایسے واقعات مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں اور حالیہ حملوں میں بالخصوص مسلمانوں کی املاک اور کاروبار کو نشانہ بنائے جانے سے شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معمولی بات کو بنیاد بنا کر ایک روزہ دار پر وحشیانہ حملہ اور متعدد دکانوں و ٹھیلوں کی تباہی نہایت افسوسناک ہے، جس سے متاثرہ خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ مفتی محمود زبیر خاسمی نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہونے والی توڑ پھوڑ میں زیادہ تر مسلم تاجروں کی املاک کو نقصان پہنچا اور اس طرح کے واقعات کا تسلسل ریاست کے امن اور باہمی اعتماد کے لیے خطرناک علامت ہے۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ اور ریاستی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریاست کی روایتی مذہبی رواداری اور باہمی احترام کی فضا ء برقرار رہے۔ انہوں نے ماضی کے فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جے نور میں ایک سو سے زائد دکانیں جلائے جانے کے باوجود متاثرین کو معاوضہ نہیں ملا، جبکہ میدک اور دیگر مقامات پر بھی مسلمانوں کے خلاف زیادتی کے واقعات پیش آئے، جس سے متاثرہ طبقات میں بے اعتمادی بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے آغاز کے بعد مختلف مقامات پر ایسے واقعات کا رونما ہونا مزید تشویش کا باعث ہے۔ جمعیت العلماء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انٹیلیجنس نظام کو مستحکم کیا جائے اور بانسواڑہ واقعہ میں پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، خصوصاً سرکل انسپکٹر کے کردار کی تحقیقات کرتے ہوئے اگر کوتاہی ثابت ہو تو فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کاماریڈی کی بروقت مداخلت کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے صورتحال پر قابو پایا گیا اور شام و شب امن کے ساتھ گزری۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی ذمہ داران سے رابطے کے مطابق حالات فی الحال معمول پر ہیں، جبکہ جمعیت العلماء کا وفد جلد ایس پی سے ملاقات کرکے ویڈیو شواہد کی بنیاد پر ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔ مفتی محمود زبیر خاسمی نے حکومت پر زور دیا کہ ریاست میں امن و امان کا تحفظ اولین ترجیح بنایا جائے اور فرقہ پرست عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور ریاست میں بھائی چارے کی فضا برقرار رہے۔