بوگس ووٹنگ کا شاخسانہ ، زخمیوں کیخلاف ہی پولیس کا کیس درج
بانسوارہ ۔ 23 ۔ جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بانسواڑہ میں بلدی انتخابات کے دوران بوتھ نمبر 29-30 پر بوگس ووٹ استعمال کرنے کیلئے ہر امیدوار اپنی اپنی کوشش میں کامیاب رہا لیکن وارڈ نمبر 15 کے امیدوار شیخ اکبر کی جانب سے بوکس ووٹ ڈالنے کی غرض سے زینت نامی خاتون تسلیم کے نام پر ووٹ ڈالنے کی کوشش میں قصوروار پائی گئی ۔ جسکی وجہ سے بوتھ پر موجود اپوزیشن قائدین نے زینت کو ووٹ ڈالنے سے روکا اور زبردستی نقاب اور برقعہ اتارنے پرمجبور کئے جانے اور بدسلوکی پر ہنگامہ دھکم پیل اور ہاتھا پائی کے بعد بوتھ لیول آفیسر میمونہ بیگم نے فوری پولیس کو طلب کرتے ہوئے زینت کو حوالہ کی۔ اس واقعہ کے مقام پر موجود عوام نے روکنے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن قائدین نے کیس درج کرنے پر زور دیا ۔ بعد ازاں رائے دہی کے اختتام کے بعد آزاد امیدوار شیخ اکبر کے افراد خاندان اکبر کی ہمت افزائی اور اکبر کے حق میں ناندیڑ سے بانسواڑہ شرکت کئے ہوئے تھے ۔ ان کو دیکھتے ہوئے شیخ اکبر کے افراد خاندان جو رائے دہی کے اختتام کے بعد کاما ریڈی کیلئے لوٹ رہے تھے ۔ اپوزیشن قائدین نے فلمی انداز میں ناندیڑ والوں کا پیچھا کرتے ہوئے ان کی گا ڑیوں کو جکل دانی تانڈہ کے قریب رکواکر بوگس ووٹ کا الزام عائد کرتے ہوئے بری طرح لاٹھیوں سے زد و کوب کرتے ہوئے گا ڑیوں ، کاروں کو نقصان پہنچایا ، اس کی اطلاع پولیس کو ہوتے ہی پولیس مقام واقعہ پہنچ الٹا ناندیڑ والوں کو حراست میں لیتے ہوئے بانسواڑہ پولیس اسٹیشن پہونچے ۔ آزاد امیدوار شیخ اکبر کو بھی بوگس ووٹ کا استعمال کروانے کے جرم میں شیخ اکبر پر کیس درج کیا گیا اور رات تمام حراست میں رکھا اور الیکشن آفیسر میمونہ بیگم کی شکایت پر زینت پر مقدمہ درج کرلیا گیا ۔ اس واقعہ پر سیاسی قائدین میں افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔
