مقامی افراد کی نمائندگی، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی عہدیداروںسے بات چیت
حیدرآباد: اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں میں زیادہ تر سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد پائے گئے ہیں۔ اسی طرح کا ایک معاملہ کاما ریڈی ضلع کے بانسواڑہ میں پیش آیا جہاں وقف بورڈ کی قیمتی اراضیات کو پلاٹنگ کے ذریعہ فروخت کیا جارہا ہے۔ تظیم المساجد جامع مسجد بانسواڑہ کے ذمہ داروں نے آج صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے ملاقات کی اور دو مقامات پر قیمتی اراضی کی فروخت سے واقف کرایا ۔ انہوں نے شکایت کی کہ متعلقہ وقف انسپکٹر کی جانب سے ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ وقف بورڈ کی جانب سے قابضین کے خلاف 2018 ء میں تحصیلدار سے شکایت کی گئی تھی لیکن حکام نے سروے کے ذریعہ اراضی کے تحفظ کا کام انجام نہیں دیا۔ مساجد کے ذمہ داروں امتیاز احمد ، محمد بشیر ، محمد ایاز الدین ، محمد حسین، ابو بن موسیٰ اور دوسروں نے محمد سلیم کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے اراضی کی فروخت روکنے کے اقدامات کی اپیل کی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے وقف انسپکٹر سے ربط قائم کرتے ہوئے قابضین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے ذریعہ ضلع کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو مکتوب روانہ کیاجائے گا۔ یادداشت میں بتایا گیا ہے کہ بانسواڑہ ٹاؤن میں سروے نمبر 288 کے تحت 2 ایکر 35 گنٹہ اراضی کو پلاٹنگ کے ذریعہ فروخت کیا جارہا ہے اور مقامی عہدیدار قابضین کی تائید کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سروے نمبر 368 کے تحت تین ایکر 33 گنٹہ اراضی پر ناجائز قبضے کئے گئے ۔ قابضین سرکاری ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وفد نے شکایت کی کہ برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائدین کی سرپرستی میں اوقافی اراضی کی فروخت کا کام جاری ہے۔ محمد سلیم نے تیقن دیا کہ وہ حیدرآباد سے عہدیداروں کی ٹیم روانہ کرتے ہوئے کلکٹر سے نمائندگی کریں گے۔ ضلع کلکٹر کو وقف اراضیات کے دستاویزات اور ریکارڈ روانہ کیا جائے گا۔