کئی دوکانوں و ٹھیلہ بنڈیوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ پولیس کی بروقت کارروائی سے حالات قابو میں
حیدرآباد :20 فروری ( محمد جاوید علی) ضلع کاماریڈی کے بانسواڑہ مستقر میں واقع ریلائنس مارٹ میں ایک معمولی تنازعہ نے اچانک فرقہ وارانہ کشیدگی کی شکل اختیار کر لی، تاہم ضلع سپرنٹنڈنٹ پولیس راجیش چندرا کی بروقت مداخلت سے حالات پر قابو پا لیا گیا۔ ایس پی نے بتایا کہ شام کے وقت محمد مزمل نامی شخص خریداری کیلئے مارٹ پہنچا، جہاں بھجن کی آواز پر اس نے آواز کم کرنے کی درخواست کی جس پر انتظامیہ آواز کم کی، تاہم بعد میں بلنگ کاؤنٹر پر معمولی بحث میں ویڈیوگرافی پر عملہ نے اعتراض کیا اور جھگڑا شدت اختیار کر گیا جس کے نتیجہ میں وہ زخمی ہو گیا ۔ اطلاع ملنے پر دونوں طبقات کے افراد بڑی تعداد میں وہاں جمع ہونے لگے جبکہ مارٹ کے عملہ نے بھی اپنے جاننے والوں کو بلا لیا، جس سے صورتحال کشیدہ ہو گئی اور نعرہ بازی کے ساتھ سڑک پر ہجوم جمع ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی ایس پی راجیش چندرا موقع پر پہنچ گئے، حالات کا جائزہ لیا اور پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کر دیا۔ ایس پی نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر توجہ نہ دیں کیونکہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہیں ۔ کشیدگی کے دوران بعض شرپسند عناصر نے بس اسٹانڈ کے اطراف فروٹ کے ٹھیلوں ، دوکانوں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا جبکہ ایک جوتے اور گھڑی کی دوکان کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ چند عناصر نے حالات کو مزید بگاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حساس مقامات پر پکٹس تعینات کر دئے اور بانسواڑہ کو مکمل سیکورٹی حصار میں لے لیا۔ ضلع ایس پی نے واضح کیا کہ امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔