باپ ۔ بیٹی نے ایک ساتھ دسویں جماعت میں کامیابی حاصل کی

   

آندھرا پردیش میں دلچسپ واقعہ ،باپ نے 319 اور بیٹی نے 309 مارکس حاصل کئے
حیدرآباد۔ 24 اپریل (سیاست نیوز) کہا جاتا ہے ’’ہمت مرداں مدد خدا ‘‘ یعنی جب انسان کچھ کرنے کی ٹھان لے اور اس کے حصول کیلئے جہد ِمسلسل کرے تو آج نہیں تو کل اس کام میں اللہ کامیابی عطا کر ہی دیتا ہے۔ ایک ایسا ہی چونکا دینے والا واقعہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں پیش آیا۔ اے پی کے وزیر تعلیم نارا لوکیش دو دن قبل دسویں جماعت کے امتحانات کے نتائج جاری کئے جس میں لڑکوں پر ہمیشہ کی طرح لڑکیوں نے سبقت حاصل کی۔ رواں سال جاری ہونے والے دسویں جماعت کے نتائج میں ایک ایسا دلچسپ واقعہ پیش آیا جسے جان کر ہر کوئی حیران ہوگیا۔ دراصل ضلع چتور کے روپن چیرلہ کے رہنے والے شبیر 1995-96ء میں دسویں جماعت میں فیل ہوگئے تھے اور پھر بعد میں وہ ایک حادثہ میں معذور ہوگئے تھے۔ ان کے والد آر ٹی سی ملازم تھے۔ والد کی جگہ ملازمت حاصل کرنے کیلئے شبیر نے دسویں جماعت کا امتحان دینے کا فیصلہ کیا تاکہ ملازمت حاصل ہوجائے۔ اس دوران وہ مایوسی کے بغیر دوبارہ اوپن ٹینتھ ایگزام کی تیاری کی اور اس سال امتحان بھی تحریر کیا۔ اسی دوران ان کی بیٹی نے بھی دسویں جماعت کا سالانہ امتحان لکھا۔ دو دن قبل جاری کئے گئے نتائج میں دونوں باپ ۔ بیٹی نے کامیابی حاصل کی۔ شبیر کو 319 اور ان کی بیٹی کو 309 مارکس حاصل ہوئے۔ 2