باکسر نیتو اور امیت نے گولڈ میڈلس جیتے

   

برمنگھم۔ ہندوستانی باکسر نیتو گھنگھاس، امیت پنگھل نے اتوار کو یہاں مختلف زمروں میں اپنے اپنے فائنل جیت کر 2022 کامن ویلتھ گیمز میں ملک کے لیے گولڈ میڈل جیتے۔امیت نے نیشنل ایگزیبیشن سینٹر میں مردوں کے 51 کلوگرام فلائی ویٹ فائنل میں متفقہ فیصلے سے گھریلو پسندیدہ کیران میکڈونلڈ کو شکست دی، اس طرح گیمز میں اپنا پہلا گولڈ میڈلجیتا۔ یہ پنگھل کا دوسرا کامن ویلتھ گیمز میڈل ہے جیسا کہ انہوں نے اس سے قبل گولڈ کوسٹ 2018 میں سلور میڈل جیتا تھا۔ پچھلے سال اولمپکس میں ابتدائی راؤنڈ میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد گولڈ میڈل کا حصول بہت بڑی کامیابی ہے ۔ یہ کامن ویلتھ گیمز 2022 میں ہندوستان کا باکسنگ کا پانچواں میڈل اور دوسرا گولڈ میڈل بھی تھا۔پہلے راؤنڈ میں26 سالہ امیت نے اپنا وقت لگایا اوپننگ کا انتظار کیا لیکن موقع ملنے پر وہ اپنے مکے اور جاب اتارنے میں سرگرم تھے۔ ہندوستانی باکسر نے دوسرے مرحلے میں حملہ کرنا جاری رکھا اور میکڈونلڈ کو پنگھل کے ایک حملے سے اس کے چہرے پر کٹ لگائی ۔دوسری طرف21 سالہ نیتو نے خواتین کے 45-48 کلو گرام (کم سے کم وزن) کے زمرے میں انگلینڈ کی جیڈک کو 5-0 سے شکست دے کر گولڈ میڈل حاصل کیا۔ یہ اس کا پہلا کامن ویلتھ میڈل ہے اور وہ دو بارکی عالمی یوتھ چمپئن بھی ہے۔نیتو جو اپنے پہلے کامن ویلتھ میں حصہ لے رہی تھی، پورے مقابلے میں مکمل طور پر قابو میں نظر آئی۔
ہم نے کھیل تبدیل کیا :روہت
لاڈرہل ۔کپتان روہت شرما نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیم کو گزشتہ سال ٹی 20 ورلڈ کپ میں خراب کارکردگی کے بعد اپنے رویہ اور نقطہ نظر میں بنیادی تبدیلی لانے پر مجبور کیا گیا۔روہت اب آسٹریلیا میں ٹی 20 ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن اس سے پہلے ٹیم کو ایشیا کپ کھیلنا ہے۔ روہت نے کہا دبئی میں ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ نہ بنانے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ہم اپنا کھیل کیسے کھیلتے ہیں اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔