باہمت نوجوان ملک کا سرمایہ ہیں

   

منشیات، رات دیر تک جاگنا، خودکشی کے اہم عوامل، شعور بیداری پروگرام سے ڈاکٹر رمنا کا خطاب
یلاریڈی ۔ 18 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع نفسیاتی صحت پروگرام کے زیر اہتمام شعور بیداری یلاریڈی گورنمنٹ جونیر کالج میں انعقاد عمل میں لایا گیا۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر رمنا نے کہا کہ ملک میں گزشتہ سال عام خودکشیاں 2 فیصد ہوئی ہے تو اس میں طلبہ کی خودکشی دوگنی ہوگئی ہے۔ گزشتہ دس سال میں 6654 سے 13004 خودکشیاں بڑھ گئی ہیں۔ این سی آر بی کی رپورٹ کے تحت لڑکے و لڑکیاں عام خودکشیاں کررہے ہیں۔ انسان اپنا مقصد پورا نا ہونے پر نفسیاتی طور پر احساس کمتری کا شکار ہوکر مستقبل کے لئے فکرمند ہونے نفسیاتی دباؤ میں آکر اور اس بات سے مایوس ہوکر کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں ہے، اس غم میں خودکشی کے لئے قدم اٹھا رہے ہیں۔ خودکشی کے اسباب زیادہ تر سیل فونس کا استعمال، نشیلی چیزوں کا عادی ہونا ہے۔ معاشی مسائل کا سامنا کرنے طلباء اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے اور خود کو تنہا محسوس کرنے کی فکر میں بعض طلباء خودکشی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وقت پر غذا استعمال نہ کرنے سے اور رات دیر گئے تک بیدار رہنے سے بھی خودکشی کے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر دباؤ محسوس کرتے ہوئے مایوسی کا شکار ہونا، امتحان میں ناکامی، محبت میں ناکامی، نشیلی چیزوں کا عادی ہونے پر خودکشیاں کررہے ہیں۔ اس طرح کی مایوسی کو دور کرنے کے لئے طلباء و طالبات کو روزانہ ورزش کرنے کی عادت ڈالنے کا مشورہ دیا۔ حوصلہ کو کبھی خود سے دور نہ کرنے کو کہا۔ باہمت نوجوان ہی ملک کا سرمایہ ہیں۔ خود کو کبھی کمزور نہ محسوس کرنے کی صلاح دی۔ ڈاکٹر راہول نے اپنے خطاب میں طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیم کو زینہ بناکر اپنے مستقبل کو روشن بنانے کی جستجو میں لگے رہیں۔ نشیلی چیزوں سے جس قدر دور رہیں گے نفسیاتی طور پر اسقدر مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن اور فیملی ہلت اینڈ فیملی ویلفیر کے زیر اہتمام گورنمنٹ جونیر کالجس میں طلباء کے نفسیاتی دباؤ کو کم کرنے کی غرض سے شعور بیداری پروگرام منعقد کررہے ہیں۔ اگر کوئی طالب علم نفسیاتی طور پر دباؤ میں ہے تو مسئلہ کے حل کے لئے کونسلنگ یا پھر ایسے طلباء کے لئے مفت ٹول فری نمبر 14416 پر ربط کیا جاسکتا ہے جس سے نفسیاتی الجھن کو دور کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ اس پروگرام میں ہلت عملہ ڈاکٹر سچن ڈاکٹر رانی، سریتا، لکچرارس ستیش، گوتمی، ورئیشال، رادھا، سایا گوڑ اور طلباء و طالبات موجود تھے۔